مخلوط حکومت کے قیام سے بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہو پارہے، مولاناعبدالواسع
کوئٹہ:جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر ورکن قومی اسمبلی مولاناعبدالواسع نے کہاہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل خالصتاََ صاف وشفاف انتخابات میں ہے،مخلوط حکومت کے قیام سے بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہو پارہے،صوبے کی عوام ایک جماعتی حکومت کے قیام کیلئے جمعیت علماء اسلام کاساتھ دیں،اس وقت عوام جمعیت کے بیانیہ سے مطمئن ہیں عوام کی جانب سے گرین سگنل مل چکاہے، میرعبدالقدوس بزنجو کی حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ میرے علم میں نہیں ہے ریکوڈک معاہدے میں بلوچستان کو50فیصد حصہ دیاجائے جمعیت بلوچستان کے حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہے یہ واضح حقیقت ہے کہ وفاقی اکائیوں کیلئے سب سے زیادہ خود مختاری جمعیت نے مانگی ہے اور جدوجہد کی ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی دفتر میں سابق صوبائی وزراء سخی امان اللہ نوتیزئی، غلام دستگیر بادینی،سیاسی رہنماء پرویز رند کی جمعیت میں شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ، حاجی نواز کاکڑ، حاجی ذابد ریکی، عبدالواحد صدیقی، سیدعزیز اللہ آغا،سید عبدالواحد آغا، صوبائی سیکرٹری اطلاعات دلاور خان کاکڑودیگر بھی موجود تھے۔مولانا عبدالواسع نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان میں مضبوطی سے ابھر رہی ہے اس سلسلے میں 5مارچ کو جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کوئٹہ میں ساراوان ہاؤس شمولیتی اجتماع سے خطاب کرینگے جس میں چیف آف ساراوان نواب محمد اسلم رئیسانی اور نوابزادہ میر ظفر اللہ زہری جمعیت علماء اسلام میں شمولیت کااعلان کرینگے جبکہ شیڈول کے مطابق 6مارچ کو جمعیت کا کاروان نوشکی میں میرغلام دستگیر بادینی کی جانب سے جماعت میں شمولیت،7مارچ کودالبندین میں سابق صوبائی وزیر سخی امان اللہ نوتیزئی کی جانب سے جماعت میں شمولیتی پروگرام کا حصہ بنیں گے،اسی طرح خاران میں پرویز رند کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام میں شمولیتی تقریب ہوگی جس میں مرکزی و صوبائی قیادت شرکت کریگی۔انہوں نے کہاکہ رخشان ڈویژن کے علاوہ نصیرآباد اور پنجگور سے بھی بڑی تعداد میں لوگ رابطے میں ہیں۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے مسئلے کا خالصتاََحل آزاد و خود مختار اورصاف و شفاف انتخابات میں ہے بغیر کسی مداخلت کے انتخابات کے ذریعے عوام اپنے حقیقی نمائندوں کو منتخب کریں بدقسمتی سے یہاں ہمیشہ سے مخلوط حکومت بنی رہی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ مخلوط حکومت کے قیام سے مسائل حل نہیں ہوتے کیونکہ ہر سیاسی جماعت کے اپنے مفادات ہیں ہم جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے بلوچستان کے عوام کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ایک جماعتی حکومت کے قیام کیلئے جمعیت علمائے اسلام کا ساتھ دیں اس وقت جمعیت بلوچستان کے حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہے یہ واضح حقیقت ہے کہ وفاقی اکائیوں کیلئے سب سے زیادہ خود مختاری جمعیت نے مانگی ہے اور جدوجہد کی ہے ہمارا مطالبہ تھا کہ 4محکموں کے علاوہ دیگر تمام محکمے صوبوں کو منتقل کیاجائے،انہوں نے کہاکہ این ایف سی ایوارڈ آئینی ضرورت ہے 18ویں ترمیم کے بعد ہر پانچ سال میں این ایف سی ایوارڈ ہوناچاہیے لیکن یہ گزشتہ 15سالوں سے التواء کاشکار ہے جو تشویشناک ہے،انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز میرعبدالقدوس بزنجو کی طرف سے دو مرتبہ ملاقات کیلئے رابطہ کیا لیکن ہم نے معذرت کی لیکن پھر اسرار کیاکہ وہ گھر پر آرہے ہیں جبکہ یہاں بلوچ اور پشتون روایات ہیں کہ اگر کوئی گھر پر آتا ہے تو احتراماََ ہم ملاقات کرتے ہیں میرعبدالقدوس بزنجونے بتایاکہ جام کمال نے ریکوڈک کا معاہدہ 10فیصد پر کیاتھا لیکن ہم نے 25فیصد رکھاہے ہم نے ان کے سامنے واضح کیاکہ جو لوگ آپ کو بریفنگ دے چکے ہیں ان کا رویہ 70سالوں سے یہی آرہاہے جب تک بلوچستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کوساتھ مل کر ٹیبل مذاکرات نہیں ہونگے ہمیں کوئی معاہدہ قبول نہیں ہوگا کیونکہ بلوچستان سے نکلنے والے گیس سے بلوچستان ہی محروم رہا،صحافیوں کے سوالات کے جوابات میں انہوں نے کہاکہ جمعیت نے روز اول سے ریکوڈک معاہدے کی مخالفت کی ہے اسٹیئرنگ کمیٹی میں 10 ممبران ہیں جن کا تعلق اسلام آباد سے ہے حالانکہ کمیٹی پر18ویں ترمیم کے بعد بلوچستان کا حق ہے اس کا چیئرمین وزیراعلیٰ بلوچستان کو ہوناچاہیے تھا 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدوں میں خودمختار ہیں لیکن بدقسمتی سے کمیٹی کے کسی اجلاس میں وزیراعلیٰ کو بحیثیت ممبر بلا لیتے ہیں تو کبھی نظرانداز کرتے ہیں،جمعیت علماء اسلام نے واضح موقف رکھاہے کہ ریکوڈک معاہدے میں بلوچستان کو50فیصد حصہ دیاجائے اس وقت بڑے پیمانے سیاسی لوگوں کی شمولیت کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ لوگ جمعیت کے بیانیہ سے مطمئن ہے،انہوں نے کہاکہ میرعبدالقدوس بزنجو کی حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ میرے علم میں نہیں ہے البتہ اپنے ارکان سے سناہے کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے از خود اپوزیشن حلقوں کیلئے 90 کروڑ روپے ترقیاتی مد میں رکھے گئے ہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ تین سالوں سے اپوزیشن حلقے نظرانداز ہیں اس لئے وہ عوامی نمائندہ بن کر اپنا حق ادا کرینگے،انہوں نے کہاکہ ہم بھی پاکستان کا حصہ شجر ممنوعہ تو نہیں ہے عوام کا گرین سگنل ہمارے ساتھ ہیں۔


