مستونگ، بلدیاتی اداروں کے فنڈز کی بندش،شہرگندگی کے ڈھیر میں تبدیل
مستونگ: بلدیاتی اداروں کے فنڈز کی بندش،علاقے گندگی کے ڈیر میں تبدیل،عوام کو مشکلات کا سامنا،میونسپل ملازمین کی تنخواہ بند نان شبینہ کا محتاج ہوگئے دکانداروں کا ادھار دینے سے انکار،ملازمین اور عوام صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی اداروں کو سیلری و ناں سیلری فنڈز جاری نہ کرنے کی وجہ سے رل گئے فنڈز نہ ہونے سے بلدیاتی اداروں کی مشنری کو تیل نہ ملنے سے مشنری چلانے میں مشکلات،مشنری آف روڈ ہوگئی، صوبائی حکومت کی عوام کی فلاح و بہود و ترقی کے دعوے دہرے کے دہرے رہ گئے میونسپل ایمپلائز یونین مستونگ نے ہڑتال کی کال دینے کا عندیہ دیے دیا،رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے بلدیاتی اداروں کا ریلیز گزشتہ آٹھ نو مہینوں سے جاری نہیں کیا جس کے باعث مستونگ سمیت صوبہ بھر میں بلدیاتی اداروں کو ملازمین کی تنخواہوں کیلئے فنڈز دستیاب نہیں ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی، اور نان سیلری فنڈز کی مسلسل بندش سے صورتحال نے گمبیر صورتحال اختیار کرلی اور پورے صوبے کے شہری علاقے گندگی کے ڈیر میں تبدیل ہوگئے ہیں۔عدم صفائی سے ملازمین اور عوام کو سخت مشکلات پریشانی کا سامنا ہیں۔دوسری جانب بلدیاتی اداروں کے ملازمین فنڈز کی بندش کے باعث تنخواہوں سے بھی محروم ہیں ملازمین کو تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے انکے گھروں کے چولہے بھی بجھنے لگے ہیں اور غریب ملازمین نان شبینہ کا محتاج ہوکر رہ گئے ہیں اب تو بلدیاتی اداروں کے ملازمین کو دکانداروں نے بھی ادھار میں اشیاء خوردونوش دینے سے انکار کر دیا اور دکاندار ملازمین سے اپنے قرض واپس لینے کیلئے دباو ڈال رہیہیں ملازمین تنخواہوں کی عدم فراہمی سے سخت پریشانی و مشکلات کا شکار ہیں۔دوسری جانب تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف میونسپل ملازمین سراپا احتجاج،میونسپل ایمپلائز یونین کے صدر ملک شارخ علی زئی و دیگر عہدیداروں نے تنخواہوں کیلئے فنڈز ریلیز نہ کرنے کے خلاف کام چھوڑ ہڑتال کا اعلان کرنے کا عندیہ دیدیا اور کہاکہ اگر میونسپل ملازمین کی تنخواہوں کیلئے فوری طور پر فنڈز جاری نہیں کیاگیا تو سخت احتجاج کا راستہ اختیار کرتے ہوئے مکمل طور پر کام چوڑ ہڑتال کرینگیعوامی حلقوں نے صوبائی حکومت،وزیراعلی بلوچستان اور وزیر بلدیات سے مطالبہ کیاہیکہ بلدیاتی اداروں کو فوری طور پر فنڈز ریلیز کریں تاکہ عوامی مشکلات دور ہوسکے اور غریب ملازمین کی تنخواہیں ادا کرکے انکی پریشانی ختم ہوسکے۔


