عذیربلوچ کی فوجی عدالت سےسزاکےخلاف درخواست مسترد

کراچی:سندھ ہائی کورٹ نے عذیر بلوچ کی فوجی عدالت سے سزا کے خلاف درخواست وکیل کی مسلسل عدم حاضری پر مسترد کردی۔سندھ ہائی کورٹ میں لیاری گینگسٹرعذیر بلوچ کی فوجی عدالت سے سزا کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔عدالت نے وکیل کی مسلسل عدم حاضری پر درخواست مسترد کردی۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ درخواست قابل سماعت ہونے متعلق عدالت کو مطمئن نہیں کیا گیا، درخواست گزار خود اور وکیل بھی پیش نہیں ہوئے جبکہ کسی دوسرے وکیل نے مہلت مانگی۔

عدالت میں عذیربلوچ کی والدہ نے درخواست کی تھی کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق عزیر بلوچ کو ملٹری کورٹ نے 12 سال قید کی سزا سنائی ہے، عذیر بلوچ کو فوجی عدالت سے سینٹرل جیل کراچی منتقل کرنے کی خبر شائع ہوئی ہے، جیل حکام کوعذیربلوچ کو جیل منتقل کرنے کے باوجود ملٹری کورٹ کے فیصلے کی کاپی فراہم نہیں کی گئی جب کہ چیف جسٹس پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف اور دیگر کو ملٹری کورٹ کے فیصلے کی کاپی حاصل کرنے کے لیے خطوط بھی لکھے۔ عدالت سے عذیربلوچ کے خلاف جاری فیصلے کی کاپی فراہم کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ عذیربلوچ کو سزا دیتے وقت انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے، ملٹری کورٹ کے فیصلے کے بعد ملزم کوحکم نامے کی کاپی فراہم کرنا اس کا بنیادی حق ہےتاکہ اپیل دائرکرسکے۔عدالت سےعذیربلوچ کو ملٹری کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی اور کہا گیا کہ عذیربلوچ کو دی گئی سزا غیر قانونی ہے جب کہ عذیربلوچ سے اس کی والدہ کی ملاقات کا حکم دینے کی درخواست بھی کی گئی۔واضح رہے کہ اب تک عذیر بلوچ 67 مقدمات میں سے 18 میں بری ہوچکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں