حکومتی وزراء کی جانب سے ناروا رویہ جاری رہنے کیخلاف سخت احتجاج کا راستہ اختیار کرینگے، ینگ ڈاکٹرز

کوئٹہ:ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے چیئر مین ڈاکٹر بہار شاہ نے کہا ہے کہ اگر حکومتی وزراء کی جانب سے ڈاکٹرو کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ جاری رکھا گیا تو مجبوراً مذاکراتی عمل سے دستبردار ہوکر سخت احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا جس کی تمام تر ذ مہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوگی،ٹیچنگ ہسپتال لورالائی میں غریب مریضوں کے علاج معالجہ پر مامور ڈاکٹرو کو درپیش مسائل حل کرنے کے بجائے ممبر کیبنٹ کا ڈاکٹرو کیلئے نازیبا الفاظ کا استعمال قابل افسوس ہے، یہ بات انہوں نے منگل کو اپنے ایک بیان میں کہی، انہوں نے کہاکہ لورالائی کے غریب عوام کیلئے صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے بجائے ایم پی اے صاحب کا ڈاکٹرو کو بیجاء تنگ کرنا لورالائی کے عوام کو رہی سہی علاج کی سہولیات سے محروم کرنے کے مترادف ہے، انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان جہاں ایک طرف غریب مریضوں کو درپیش مشکلات کے پیش نظر سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں وہی دوسری طرف حکومتی وزراء کا ڈاکٹرو کے خلاف انتقامی کاروائی کرنا انتہائی افسوس ناک عمل ہے، انہوں نے کہاکہ ٹیچنگ ہسپتال لورالائی میں ایم پی اے لورالائی کا ڈاکٹرو کو ہراساں کرنا اور ڈاکٹرو کے خلاف گالم گلوچ کرنا ان کی ڈاکٹر دشمن سوچ کی عکاسی کرتا ہے، ایم پی اے لورالائی کا داکٹرو کے خلاف انتقامی کاروائی پر اترانا حکومت اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے درمیان ہونے والے کامیاب مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے،انہوں نے کہاکہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان حکومت وقت پر واضح کرنا چاہتی ہے کہ حکومتی وزراء کا ڈاکٹرو کے خلاف تضحیک آمیز رویہ کسی صورت برداشت نہیں کرینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں