طلبا یونین پر پابندی بندترین آمریت کی مثال ہے، راحب بلیدی
بلوچستان بار کونسل کے چئیرمین بین الصوبائی راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ نے پروگریسو اسٹوڈنٹس کلیکٹیو کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے سامنے طلباء یونین کے بحالی تحریک کا حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے طلباء الائنس نے فوجی آمر ضیاء الحق کے دور میں طلباء یونین کے اوپر عائد پابندی کو 38 سال عرصہ گزرنے کے بعد تاحال طلباء یونین پر پابندی نہ ہٹائی گئی جو کہ بدترین آمریت کی مثال ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے طلباء یونین طلباء تنظیموں کے اوپر پابندی کی وجہ سے ملک میں سیاسی بحران ہے جس کی وجہ ملک بھر میں حقیقی عوامی نمائندوں کی بجائے مصنوعی قیادت ہمارے اوپر مسلط کیا گیا ہے جس کی وجہ سے آج ملک بھر میں سیاسی معاشی بحران ہے تمام ادارے بشمول جوڈیشری تباہی کے دہانی پر ہے پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنے کو آج آٹھواں دن ہے لیکن آمریت کے پیدوار اسمبلی کے ممبران نے اپنے آنکھوں میں سیاہ پٹی باندھ رکھی ہے انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں طلباء یونین پر پابندی کے خلاف اسمبلی میں ایک قراداد پاس کی ہے جو کہ خوش آئند ہے بلوچستان اسمبلی سمیت تمام اسمبلی میں طلباء یونین پر پابندی کے خلاف قرارداد پاس کرنی چاہیے انہوں نے مطالبہ کیا کہ طلباء یونین پر عائد پابندی کو فوری ہٹھایا جائے پروگریسوو اسٹوڈنٹس کلیکٹیو کے تمام جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے جائے بلوچستان بار کونسل طلباء تنظیموں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہے


