صنعتی افراد عالمی سطح پر ایک سو60ملین یورو کے فنڈز سے مستفید ہونے کیلئے آگے آئیں،ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان
کوئٹہ: ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف)پاکستان کے طاہر رشید نے کہا ہے کہ بلوچستان مواقعوں کی سرزمین ہے، صنعت و تجارت سے وابستہ افراد عالمی سطح پر مختص کئے گئے ایک سو60ملین یورو کے فنڈز سے مستفید ہونے کے لئے آگے آئیں ہم ان کی ہر ممکن مدد کے لئے تیار ہیں، پاکستان دنیا کے ان 6ممالک میں سے ہیں جس کی مذکورہ فنڈز کے لئے نامزدگی ہوچکی ہے،لوکل کمیونٹی کے تعاون سے طورغر میں 6ہزار سلیمان مارخور اور افغان اوڑیال جیسا انمول اثاثہ رکھتے ہیں،ڈبلیو ڈبلیوایف پا کستان بلو چستان میں چیمبر کی وساطت سے کنسورشیم کیلئے فنڈنگ کے لئے بھی تیار ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے و عہدیداران و ممبران کے ساتھ منعقدہ اجلاس کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا، اس سے قبل چیمبر آف کامرس کے سینئر نائب صدر محمد ایوب مریانی، نائب صدر امجد علی صدیقی، حاجی اختر کاکڑ، محمد یوسف بازئی ودیگر نے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان، محکمہ زراعت، محکمہ جنگلات کے حکام کو چیمبر آنے پر خوش آمدید کہا، اس موقع پر محمد ایوب مریانی، امجد علی صدیقی، حاجی اختر کاکڑ، محمد یوسف بازئی ودیگر کا کہنا تھاکہ بلوچستان میں صنعت، تجارت، زراعت، کان کنی، گلہ بانی سمیت دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کو تیکنیکی معاونت کی ضرورت ہے جب تک انہیں جدید ٹیکنالوجی، ورٹیکل ایگریکلچر، لو ڈیلٹا کراپس، سسٹینڈ ایبل ایگریکلچر و دیگر کی جانب راغب نہیں کیا جاتا یہاں مختلف پیداواری شعبہ جات زبوں حالی کا شکار رہیں گے۔ بلوچستان کے کاشتکار اپنی زمینوں، دستیاب پانی، کیڑے مار ادویات، کان کنی اور گلہ بانی کے جدید طریقوں و دیگر سے متعلق معلومات نہیں رکھتے اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، یہاں صنعتوں کی کمی ہے بلوچستان کے سرمایہ کار اور صنعت کار جوائنٹ وینچر کے ذریعے مذکورہ فنڈز کے لئے مختلف پروجیکٹس بنانے پر کام کریں تاکہ مذکورہ فنڈز سے صوبے میں معاشی خوشحالی آئے اور لوگوں کو روزگار میسر ہوسکے۔ اس موقع پر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے طاہر رشید نے صنعت و تجارت کے عہدیداران و ممبران کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ماہی گیری، جنگلات، گلہ بانی، زراعت، صنعت و تجارت سمیت مختلف شعبوں میں بہترین مواقع موجود ہیں، میں بلوچستان کو مواقعوں کی سرزمین سے تعبیر کرتا ہوں لیکن یہاں پانی کے بہتر استعمال، جنگلات اور جنگلی حیات سمیت فوڈ اینڈ سیکورٹی کے حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے، مقامی لوگوں کے تعاون کا ایک نظارہ ہم طورغر میں دیکھ چکے ہیں جہاں پشین کے ترین قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے قلعہ سیف اللہ کے جوگیزئی قبیلے کے افراد کے ساتھ مل کر سلیمان مارخور اور افغان اوڑیال کی ناپید ہوتی نسل کو بچانے کے لئے کام کیا اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ سلیمان مارخور اور افغان اوڑیال کا سرمایہ ہم رکھتے ہیں جن کی تعداد 6ہزار سے زائد ہیں، انہوں نے کہاکہ عالمی ایس جی ڈیز پر عمل درآمد کے لئے اس وقت دنیا کو 4.2کھرب ڈالر درکار ہیں اس وقت دنیا کے مختلف ممالک 1.7ارب ڈالر کی یقین دہانیاں اور اعلانات کراچکے ہیں جو ناکافی ہے اس لئے اب دنیا کی بڑی کمپنیوں کے ذریعے ماحول دوست منصوبے اور جدید ٹیکنالوجی سے لوگوں کو روشناس کرانے کے لئے 160ملین یورو پر مشتمل عالمی فنڈ تشکیل دیا گیاہے اس وقت پاکستان، ویتنام اور انڈونیشیا سمیت 6ممالک اس فنڈ کے لئے منتخب ہوچکے ہیں ان ممالک میں مذکورہ رقم سے مختلف ماحول دوست اور معاشی ترقی کے لئے ضروری منصوبوں کی تکمیل کے لئے گرانٹس دیئے جائینگے، ان گرانٹس کو 4آرگنائزیشنز کی مدد سے مختلف پروجیکٹس پر کام کرنے والوں کو مہیا کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ڈیٹیل فیزیبلٹی، ریسرچ اسٹڈی کے لئے 60ہزار یورو تک گرانٹ کی فراہمی کی جائے گی جبکہ فیلڈ میں کام کے لے 3لاکھ 50ہزار یورو فراہم کئے جائیں گے،انہوں نے کہاکہ سندھ میں سسٹین ایبل مشروم فارمنگ، سمارٹ اینڈ گرین ایکوا کلچر، سسٹین ایبلد آرگینک انٹیگریٹڈ فارمنگ، بگاس سے بائیو ڈگریڈ ایبل اشیا بنانے سمیت دیگر منصوبے پر کام کے لئے ہم سے رابطہ کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں اسسٹین ایبل ایگریکلچر، لو ڈیلٹا کراپس، ٹنل ایگریکلچر، مائیکرو گرین، ورٹیکل ایگریکلچر، آرگینک کاٹن، زیتون، کھجور پراسسنگ و دیگر کے حوالے سے موجود مواقعوں سے مستفید ہونا ہوگا، انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں روایتی طرز پر کان کنی، زراعت، گلہ بانی، ماہی گیری کی جارہی ہے اسی لئے اس کے غذائی اشیا ودیگر کی صحیح قیمت نہیں مل پارہی، یہاں کے صنعت کار، تاجر، زمیندار و دیگر آگے ہیں اور موجود مواقعوں سے فائدہ اٹھائیں ہم ان کا ہر ممکن ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم بلو چستان میں سبز انقلاب کے لئے گرانٹ دینے کاپروگرام بھی لا نج کر نے جا رہے ہیں ڈبلیو ڈبلیوایف پا کستان بلو چستان میں چیمبر کی وساطت سے کنسورشیم کیلئے فنڈنگ کے لئے بھی تیار ہیں۔


