پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کی اجازت کسی کو نہیں،افغان حکومت

کابل :افغان وزیر دفاع ملا یعقوب مجاہد نے کہا ہے کہ ہماری حکومت نے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کی اجازت کسی کو نہیں دی، دوحہ معاہدے کے تحت کسی کو بھی افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینگے،تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ایک انٹرویو میں افغان وزیر دفاع ملا یعقوب مجاہد نے کہا ہے کہ ہماری حکومت نے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کی اجازت کسی کو نہیں دی۔انہوں نے کہا کہ سرحد پر باڑ لگانے کا معاملہ ایک پیچیدہ موضوع ہے سابق حکومت نے پاکستان کو باڑ کی اجازت دی تھی اور یہ کہ باڑ زیادہ علاقوں سے گزر چکی ہے اور بہت محدود علاقوں میں باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اب تک باڑ سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور میں نے یہ مسئلہ کابینہ اور قیادت کے ساتھ شریک کیا ہے،اس پر مشورے جاری ہیں اور قیادت کی جو بھی ہدایات ہونگی ان پر عمل کیا جائے گا۔ ادھر طالبان نے افغانستان کے مکمل اثاثے واپس نہ کرنے کی صورت میں امریکا کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرنے کی دھمکی دے دی۔اب تک پْرامن رہنے والے طالبان کی طرف سے بڑا بیان سامنے آگیا، طالبان نے امریکی رویے کے پیش نظر اپنی پالیسی تبدیل کرنے کی دھمکی دے دی۔طالبان نے امریکی صدر کی طرف سے افغانستان کے منجمد آدھے اثاثے نائن الیون کے متاثرین کو دینے کا اقدام مسترد کردیا۔ترجمان طالبان کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے حملوں سے افغان عوام کا کوئی تعلق نہیں، امریکا کس طرح افغان عوام کا پیسہ نائن الیون متاثرین کو دے سکتا ہے۔علاوہ ازیں افغانستان کے منجمد اثاثوں بارے امریکہ کے حالیہ فیصلے کے کیخلاف دارالحکومت کابل میں ہزاروں افغان شہری سڑکوں پر نکل آئے اور امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ اور کھلی چوری قرار دیا، مظاہرین نے واشنگٹن سے 9 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کے اثاثے جنگ زدہ ملک کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں