سوراب ہسپتال میں پیش امام کی خالی آسامی پر کوئٹہ کا رہائشی بھرتی
سوراب: ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سوراب میں پیش امام کی خالی آسامی پر کوئٹہ کا رہائشی بھرتی، مذکورہ آسامی پر دو سال قبل ٹیسٹ و انٹرویو دیکر آرڈر کے منتظر مقامی امیدوار منہ تکتے رہ گئے،سوراب کے عوامی سماجی سیاسی حلقوں کا خفیہ اور غیر قانونی تقرری پر شدید احتجاج، ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پیش امام کی آسامی پر غیر مقامی شخص کی تعیناتی منسوخ کرکے ٹیسٹ و انٹرویو دینے والے مقامی مستحق امیدوار کی تعیناتی کا مطالبہ، ناانصافی کے خلاف بھرپور احتجاج کی دھمکی، تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے صوبے میں سرکاری ملازمتوں پر شفاف طریقے سے میرٹ کے بنیاد پر تقرری کے دعوؤں کی پول کھل گیا،ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سوراب میں پیش امام کی خالی آسامی پر راتوں رات کوئٹہ کے لوکل ہولڈر غیر مقامی شخص کو کھپا کر ناانصافی اور حق تلفی کی بدترین مثال قائم کی گئی ہے۔جبکہ پچھلے سال جب ان خالی آسامیوں پر دوبارہ درخواستیں طلب کی گئی تو بدنیتی کا مظاہرہ کرکے پیش امام کی خالی آسامی کو خفیہ رکھا گیا جبکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال سوراب سمیت ضلع بھر میں محکمہ صحت کی دیگر خالی آسامیوں پر ہزاروں بے روزگار نوجوانوں سے ٹیسٹ و انٹرویو لیا گیا مگر حسب سابق تعیناتی کا عمل ایک بار پھر التوا میں ڈال دیا گیا ہے، اب اچانک خفیہ طریقے سے محکمانہ ترقی کے نام پر سینکڑوں کلومیٹر دور کوئٹہ کے لوکل ہولڈر شخص کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سوراب میں پیش امام کی خالی آسامی پر کھپا کر انصاف اور میرٹ کی دھجیاں اڑا دی گئیں ہیں جس سے نہ صرف ٹیسٹ و انٹرویو میں کامیاب مستحق نوجوانوں بلکہ علاقے کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید تشویش پھیل چکی ہے اور وہ اس کھلی حق تلفی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔


