سیندک معاہدہ توسیع 18ویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے،جان بلیدی

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی نے کہاہے کہ سیندک معاہدہ توسیع 18ویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے بلکہ موجودہ اقدام کو ماورائے آئین اقدام کہہ لیں بھی تو بے جا نہ ہوگاوفاق کی سطح پر صوبے سے متعلق معاہدوں کو تسلیم نہیں کرتے،پارٹی اجلاس طلب کرلیاہے جس میں سیندک معاہدے کی توسیع کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیاجائے گا، اس مسئلے کو ہم قومی اسمبلی اور سینیٹ کی سطح پر اٹھائیں گے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے سیندک کے معاہدے کو بلوچستان کے معاملات میں مداخلت اور اٹھارویں ترمیم کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہاکہ موجودہ اقدام کو ماورائے آئین اقدام کہہ لیں بھی تو بے جا نہ ہوگا۔انہوں نے کہا: سیندک معاہدے کے حوالے سے کوئی آئینی طریقہ اختیار نہیں کیا گیا بلکہ وفاق نے صوبے کے معاملے میں مداخلت کرکے معاہدہ کیا ہے۔جان بلیدی کا مزید کہنا تھا: ہم نے ریکوڈک پر بھی سخت موقف اپنایا ہے اور ہم وفاق کی سطح پر ہونے والے معاہدوں کو تسلیم نہیں کرتے۔انہوں نے کہا: جب ہمارے دور میں 2013 میں ڈاکٹر مالک بلوچ کی حکومت تھی تو یہ معاہدہ ختم ہوچکا تھا۔ وفاق نے اسی طرح توسیع کے لیے کہا لیکن ہماری حکومت نے اس پر شدید احتجاج کیا، جس کی وجہ سے یہ معاہدہ نہیں ہوسکا۔ پھر نواب ثنا اللہ زہری کے دور میں معاہدے میں توسیع کی گئی تھی جان محمد نے کہا: چینی کمپنی مائننگ کے بعد بلاک بنا کر چین بھیج دیتی ہے اور وہاں اس میں سے کاپر اور سونا الگ کیا جاتا ہے۔ہم نے اس حوالے سے تنظیم کا اجلاس طلب کیا ہے، جس میں سیندک معاہدے کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس مسئلے کو ہم قومی اسمبلی اور سینیٹ کی سطح پر اٹھائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ سیندک کی طرح سوئی کا معاہدہ بھی ہمارے دور میں کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ہماری حکومت نے وفاق کو ایسا کرنے نہیں دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں