کوہلو، چمالنگ تعلیم پروگرام میں نا انصافیوں کیخلاف احتجاجی ریلی
کوہلو: اہلیان کوہلو کی جانب سے چمالنگ تعلیمی پروگرام میں ناانصافیوں کے خلاف احتجاج اور ریلی نکالی گئی اس موقع پر بینک چوک سے ریلی برآمد ہوئی ریلی شہر کے مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے ٹریفک چوک میں جلسے کی شکل اختیار کرگئی ریلی میں عوامی حلقوں سیاسی کارکنان طلبا اور تاجر برادری نے کثیر تعداد میں شرکت کی ریلی کے شرکا نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے جلسے سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری چمالنگ تعلیمی پروگرام کو بلاجواز ہٹانا سمجھ سے بالاتر ہے اس سے قبل بھی ناانصافیاں ہوتے رہے چمالنگ مری قبائل کی ملکیت ہے کسی کو بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے مری قبائل تین بڑے شاخوں میں تقسیم ہوتا ہے گزینی بجارانی اور لوہارانی جبکہ گزینی کو نمائندگی سے بھی محروم رکھا گیا ہے اعلی حکام اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کر کے سیکرٹری چمالنگ تعلیمی پروگرام کو میرٹ پر تعینات کرے مقررین کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکام بالا نے اپنے فیصلوں پر نظر ثانی نہیں کیا تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا مری قبائل کو ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت دیوار سے لگایا جا رہا ہے آرمی اور حکومتی نمائندے مری کش پالیسی ترک کرکے مری علاقے کے معدنی وسائل کی لوٹ مار بند کریں مری قبائل کے بچوں کو بھی تعلیم اور دیگر سہولیات سے محروم رکھنا ناانصافیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے سابقہ سیکرٹری چمالنگ تعلیمی پروگرام غازی خان مری کی کارکردگی حکومتوں اور عوام کے سامنے ہے انہوں نے دن رات ایک کرکے اس پروگرام کو کامیاب بنایا جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ان کا قصور اتنا تھا کہ انہوں نے اس پروگرام کے تحت غریبوں کے بچوں کو تعلیم دی ہے ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں آج بھی سینکڑوں کی تعداد میں غریبوں کے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں اور اس پروگرام کے تحت ہزاروں کی تعداد میں کوہلو کے پرائیوٹ سکولوں میں غریبوں کے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں موصوف نے ایک مسیح کے طور پر کام کیا ہے واضح رہے کہ حالی میں اس پروگرام کے سیکرٹری کو بلاجواز ہٹا کر ایک جونئیر اہلکار کو سیکرٹری چمالنگ تعینات کیا گیا ہے چمالنگ تعلیمی پروگرام کے سابق سیکرٹری نے 53بچوں کی سفارشی لسٹ کو کینسل کردی تھی جو سفارش کے تحت بغیر انٹریو کے سکالر شپ میں سلیکٹ کئے گئے تھے۔ سلیکٹ ہونے والے بچوں کی اکثریت ایک ہی خاندان سے تھا۔ اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ حق و سچ پر چمالنگ تعلیمی پروگرام کی سیکرٹری کو ہٹانا کسی صورت قبول نہیں ہے چمالنگ تعلیمی پروگرام میں من پسند جونیئر اہلکار کو تعینات کرنا کسی برداشت نہیں کرسکتے چمالنگ تعلیمی پروگرام میں قومی حقوق کو تسلیم کیا جائے اگر مطالبے تسلیم نہیں کئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا احتجاج میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماں،سکولوں کے طلبا بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر ملک گامن خان مری،نیشنل پارٹی کے رہنما وڈیرہ علی نواز پوادی، آل پاکستان مری اتحاد کے ضلعی صدر میر نعمت مری،حاجی بھاول خان مری،میر باز محمد بھاولان زئی،ایڈوکیٹ خلیل احمد مری،انثار مری رسول خان مری سمیت تاجر برادی سول سائنٹی نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔


