خضدار سندھ پولیس کی کارروائی کیخلاف نوٹس لیا جائے ،بی اے پی
خضدار:بلوچستان عوامی پارٹی خضدار کے ضلعی ترجمان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کراچی پولیس کی خضدار میں چھاپوں کے دوران چادر اور چار دیواری کی تقدس کی پامالی، خواتین پر تشدد اور انہیں حراست میں لینے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کراچی پولیس کی مبینہ چھاپوں سے مقامی انتظامیہ کی جانب سے لاعلمی کا اظہار کرنا باعث تعجب ہے متعدد سرکاری گاڑیوں میں سوار درجنوں اہلکاروں نے خضدار پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ناک کے نیچے کئی گھنٹے تک شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں کیں اور متعدد افراد کو حراست میں لیکر کراچی منتقل کیا لیکن مقامی انتظامیہ لاعلم رہی یہ عمل باعث افسوس ہے،بیان میں کہا گیا کہ جرائم پیشہ عناصر کو قانون کی گرفت میں لانے اور کسی ملزم یا ملزمان کی گرفتاری پر کسی کو اعتراض نہیں لیکن کراچی پولیس کی خضدار میں حالیہ چھاپوں کے دوران چادر اور چار دیواری کہ تقدس کی پامالی، خواتین پر تشدد اور مقامی پولیس و انتظامیہ کو اعتماد نہ لینے کا عمل باعث تشویش قابل مذمت اور ناقابل برداشت اور سراسر قانون کی خلاف ورزی ہے جس پر خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی۔بیان میں کہا گیا کہ کراچی پولیس کی حالیہ چھاپوں کے دوران خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے ظالمانہ رویہ اور خواتین کو بلاجواز حراست میں لینے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے پر خضدار کے تمام شہریوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے ضلعی انتظامیہ کو کراچی پولیس کی چھاپوں کا سختی سے نوٹس لیکر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔بیان میں وزیر اعلی بلوچستان، چیف سیکریٹری، سیکریٹری داخلہ، آئی جی پولیس اور کمشنر قلات ڈویژن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کراچی پولیس کے حالیہ چھاپوں کے دوران چادر اور چار دیواری کی تقدس کی پامالی اور خواتین پر تشدد کے واقعات کا نوٹس لیا جائے۔


