فورسز کے ہاتھوں بچوں سمیت 4افراد کی ہلاکت کی جوڈیشل انکوائری کی جائے،جمال شاہ کاکڑ
کوئٹہ:پاکستان مسلم لیگ(ن)بلوچستان کے صدر وسابق اسپیکر صوبائی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ نے فورسز کے ہاتھوں بچوں سمیت4افراد کی ہلاکت کا جوڈیشل انکوائری کرانے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ قبائلی روایات اور چادروچاردیواری کے تقدس کو پامال کیاگیاہے،گرفتاری کے باوجود 4افراد جن میں بچے بھی شامل ہیں کو کیوں قتل کیاگیا یہ سی ٹی ڈی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، پاکستان مسلم لیگ(ن)قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قانون ہاتھ میں لیں اور روایات کو پامال کریں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔جمال شاہ کاکڑ نے کہاکہ گزشتہ شب 3بجے حاجی لالو کی رہائش گاہ پر فورسز کی جانب سے چھاپہ مارا گیا اس دوران فورسز کی جانب سے 4بچوں کو حراست میں لیکر ہتھکڑیاں لگائی گئی اور پھر انہیں گولیاں مار کر قتل کیاگیا ہے،انہوں نے کہاکہ ایک جانب فورسز کی جانب سے قبائلی صوبے کے روایات کو پامال کرتے ہوئے چادر وچاردیواری کے تقدس کو پاؤں تلے روند کر کے 4بچوں جو ایف آئی آر میں نامزد بھی نہیں ہے گرفتاری کے باوجود قتل کیاگیا گرفتار کرنے کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیاجاتا تو قانون کی حکمرانی ہوتی انہوں نے کہاکہ ژوب کے علاقے کلی شہاب زئی میں فورسز نے جن 4افراد کو قتل کیا ہے جن میں بچے بھی شامل ہیں ایسے اندوہناک واقعہ کی فوری طورپر جوڈیشل انکوائری کرائی جائیں کہ کس قانون کے تحت گرفتاری کے باوجود لوگوں کو قتل کیاگیاہے،بلوچستان ایک قبائلی صوبہ ہے یہاں رہنے والے بلوچوں اور پشتونوں کے اپنے روایات ہیں لیکن اس طرح رات کے اندھیرے میں چادر وچاردیواری کے تقدس کو پامال کرکے لوگوں کو گرفتار کرنے کے باوجود انہیں قتل کرنا جن میں بچے بھی شامل ہیں سی ٹی ڈی کی کارکردگی پرسوالیہ نشان ہے پاکستان مسلم لیگ(ن)قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے ہم کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دینگے،لہذا فوری طورپر معاملے کی اعلی سطح کی جوڈیشل انکوائری کرکے اس میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔


