ویانا میں مذاکرات برائے مذاکرات قابل قبول نہیں‘ ایران
تہران:ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مذاکرات برائے مذاکرات قابل قبول نہیں بلکہ ایک اچھے معاہدے کیلئے مذاکرات قابل قبول ہیں‘ٹرمپ حکومت ایران پر پابندیاں عائد کئے جانے کے باوجود ایران کو گوشہ نشین کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی‘ہم ویانا میں مذاکرات برائے مذاکرات کیلئے نہیں گئے ہمارا اصل مقصد اچھے معاہدے تک رسائی ہے‘اس سے پہلے معاہدے سے اتنا قریب نہیں ہوئے تھے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے یورو نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے ایران پر پابندیاں عائد کئے جانے کے باوجود ایران کو وہ گوشہ نشین کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ویانا میں مذاکرات برائے مذاکرات کیلئے نہیں گئے بلکہ ہمارا اصل مقصد ایک اچھے معاہدے تک رسائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے معاہدے سے اتنا قریب نہیں ہوئے تھے۔حسین امیر عبداللہیان نے اس بات پر زور دیا کہ مغربی فریقین کی حکمت عملی اور لچک سے چند گھنٹوں میں مذاکرات نتیجے تک پہنچ جائیں گے۔ امیر عبداللہیان نے ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات نہ ہونے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارے اور امریکیوں کے درمیان بد اعتمادی کی اونچی دیوار کھڑی ہے۔دوسری جانب پابندیوں کے مذاکرات کے لیے یورپی یونین کے نمائندے انریکہ مورا نے منگل کے روز اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ مذاکرات ایک نازک مرحلے پر پہنچ چکے ہیں اور اہم مسائل کو حل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ویانا مذاکرات ایک حساس لمحے پر پہنچ چکے ہیں ہم دس ماہ کی بات چیت کے بعد اختتام کے قریب ہیں تو کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اہم مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حتمی نتیجہ ابھی تک واضح نہیں ہے، اور تمام وفود مکمل طور پر کوبرگ کے ہوٹل میں کام کر رہے ہیں۔ویانا میں پابندیوں کے اٹھانے کے لیے مذاکرات کا آٹھواں دور جو 27 دسمبر کو شروع ہوا ہے بات چیت کے طویل ترین دوروں میں سے ایک ہے۔ وفود کی اکثریت تسلیم کرتی ہے کہ مذاکرات آخری مرحلے میں پہنچ چکے ہیں اور حتمی معاہدہ دستیاب ہے۔ مذاکرات اب ایسی حالت میں ہیں کہ اس کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار صرف اور صرف مغربی جماعتوں کے سیاسی فیصلوں پر منحصر ہے۔ اگر مغربی فریق ضروری فیصلے کر لیں جس کا انہیں علم ہو تو باقی مسائل حل ہو سکتے ہیں اور چند دنوں میں حتمی معاہدہ ہو سکتا ہے۔


