ثناء بلوچ کا اسلام آباد میں طلباء پر پولیس تشدد کا توجہ دلاؤنوٹس نمٹا دیا گیا
کوئٹہ:رکن اسمبلی ثناء بلوچ کی اسلام آباد پولیس کے بلوچستان کے طلباء پر تشدد سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کو نمٹا دیاگیا۔گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ نے اپنا توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے صوبائی وزیر محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی توجہ مبذول کرائی کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد پریس کلب کے باہر اسلام آباد پولیس کی جانب سے بلوچستان کے طالبعلموں کے احتجاجی مظاہرے پر بہیمانہ تشدد، لاٹھی چارج، اور نہتے طالب علموں کو زخمی کرنے کی بابت حکومت بلوچستان نے وفاقی حکومت رابطہ اور اس سلسلے میں جو اقدامات اٹھائے ہیں ان کی تفصیل فراہم کی جائے۔ توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے ثناء بلوچ نے کہا کہ صوبائی حکومت فوری طو رپر وفاقی حکومت سے اسلام آباد پولیس کے اس اقدام سے متعلق بات کرے اور اس پر احتجاج کرے افسوس ہے کہ بلوچستان میں تو لوگوں کو دوسرے درجے کا انسان سمجھا جاتا رہا ہے مگر اب جب ہمارے لوگ اپنا پیٹ کاٹ کر بڑی مشکل سے اپنے بچوں کو حصول علم کے لئے اسلام آباد اور لاہور بھیجتے ہیں تو ان کے ساتھ وہاں جو سلوک کیا جاتا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ لاہور میں ایک بم دھماکے کے بعد بلوچ اورپشتون طلباء کو جس طرح پکڑ کر ان سے جو رویہ رکھا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ ہمارے طلبہ اسلام آباد میں اپنے مطالبات کے لئے احتجاج کررہے تھے تو ان پر انتہائی بے رحمانہ تشدد کیاگیا بتایا جائے کہ ہمارے طلبہ اگر پر امن احتجاج کے لئے پریس کلب بھی نہ جائیں تو پھر وہ کہاں جا کر احتجاج کریں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں ہمارے طلباء کو تحفظ دیا جاتا مگر ان کے ساتھ اس کے برعکس رویہ اختیار کیاگیا انہوں نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کو احتجاجی مراسلہ لکھے جس میں واقعے کی تحقیقات طلباء پر تشدد کی مذمت اور ازالے کا مطالبہ کیا جائے۔بعدازاں توجہ دلاؤ نوٹس نمٹادیا گیا۔


