آرمی کے جیٹ فیول کی غیر قانونی فروخت سے متعلق کیس کی سماعت

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے سول ایوی ایشن اور افواج پاکستان کے جیٹ فیول کی غیر قانونی فروخت سے متعلق کیس کی سماعت کے موقع پر نیب اور شیل کمپنی کو عدالت کی معاونت کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاونت کریں کہ عدالت پراسیکیوشن کے معاملات میں مداخلت کر سکتی ہے یا نہیں،جیٹ فیول کی فروخت مارکیٹ میں کیوں نہیں کی جا سکتی۔عدالت عظمیٰ میں معاملہ کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں۔ تین رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اس موقع پر ریمارکس دئیے کہ دو غلطیاں ایک کام کو درست ثابت نہیں کر سکتیں،نیب نے دھوکہ دہی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا کیس بنایا،نیب عدالت کو متاثر کرنے میں ناکام ہو رہی ہے،اگر جیٹ فیول کی فروخت پر ممانعت تحریری نہیں تو بھی اس کا ادراک ضروری ہے، جسٹس سجاد علی شاہ نے اس موقع پر ریمارکس دئیے کہ عدالت کو حقائق بتائیں کہ کمپنیز کا جیٹ فیول مارکیٹ میں فروخت کرنا کیسے غیر قانونی ہے؟ اگر چینی کی قیمت عام مارکیٹ میں بڑھتی ہے تو اس پر نیب کیا کارروائی کرتی ہے؟ شیل کمپنی کے وکیل مخدوم علی خان نے موقف اپنایا کہ جیٹ فیول اور سپر کیروسین آئل کی ترسیل کا اختیار صرف پاکستان اسٹیٹ آئل اور شیل کمپنی کے پاس ہے، پی ایس او کے ملازم بریگیڈیئر ریٹائرڈ ذولفقار علی نے نیب سندھ کے کرنل سراج کو شیل کمپنی کی شکایت کی،نیب نے پی ایس او کی زبانی شکایت پر کارروائی شروع کر دی،پی ایس او خود بھی جیٹ فیول اور کیروسین آئل پرائیویٹ مارکیٹ میں فروخت کرتی رہی۔ بعد اذاں عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں