سندھ ہائیکورٹ نے کوٹہ سسٹم کے متعلق تحریری فیصلہ جاری کردیا
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ ہائیکورٹ نے کوٹہ سسٹم کے متعلق تحریری فیصلہ جاری کردیاہے،جسٹس صلاح الدین پنہور نے 23 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔مختصر فیصلہ 13 اکتوبر 2021میں سنایا گیا تھا۔ سندھ ہائیکورٹ نے کوٹہ سسٹم کے خلاف پاسبان کی درخواست مسترد کردی تھی۔عدالت نے فیصلے میں وفاقی حکومت کے موقف کو درست قرار دے دیا۔جسٹس صلاح الدین پنہور نے فیصلے میں کہا کہ یہ معاملہ قانون سازی سے تعلق رکھتا ہے، عدالت کا حکومتی معاملات میں مداخلت مناسب نہیں۔وکیل نے دلائل میں کہا کہ حکومت نے اپنے جواب میں تسلیم کیا ہے کہ کوٹہ سسٹم کی توسیع کے لیے آئینی تقاضے پورے نہیں ہوئے۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ 2013 کے بعد سے کوٹہ سسٹم موثر نہیں رہاا ور اس بنیاد پر کی گئی تقرریاں بھی غیرقانونی ہیں۔ کوٹہ سسٹم کے باعث ملک خصوصاً سندھ میں میرٹ کا قتل عام ہوا۔جواب میں کہا گیا کہ کوٹہ سسٹم 1973 کے آئین کے آرٹیکل 27 کے تحت پہلے دس سال کے لئے نافذ کیا گیا تھا۔ 1985 کے بعد بتدریج کوٹہ سسٹم میں صدارتی آرڈیننس کے تحت توسیع کی جاتی رہی ہے۔وفاقی حکومت نے موقف دیا کہ 2013 میں کوٹہ سسٹم میں بیس سال کی توسیع کی منظوری دی گئی۔ لیکن پارلمنٹ کی مدت ختم ہونے کے باعث ترمیم نہیں ہوسکی تھی۔جواب میں کہا گیا کہ موجودہ حکومت نے مشاورت کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کی جانب سے سفارشات کے باوجود کابینہ نے اس پر اٹارنی جنرل سے رائے طلب کی تھی۔ اس کے لیے وزیراعظم کی منظوری کا انتظار ہے۔ کوٹہ سسٹم وفاق کے تمام یونٹس کے لوگوں کو ملازمت اور ترقیوں میں مساوی حصہ دینے کے لئے رائج کیا گیاہے۔وفاقی حکومت نے استدعا کی کہ درخواست غیر ضروری ہے مسترد کی جائے۔


