آرمی چیف کی او آئی سی اجلاس اور یوم پاکستان پریڈ کیلئے سیکورٹی بڑھانے کی ہدایت
راولپنڈی (انتخاب نیوز) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے او آئی سی اجلاس اور یوم پاکستان پریڈ کے لیے سکیورٹی بڑھانے کی ہدایت کردی۔ پاک فوج کے سربراہ نے حکم دیا ہے کہ آئندہ ہفتے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کے وزرائے خارجہ کے اجلاس اور دارالحکومت میں ہونے والی یوم پاکستان کی پریڈ کے محفوظ انعقاد کے لیے سکیورٹی کو بڑھایا جائے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو)میں کور کمانڈرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ دونوں تقریبات کے پرامن انعقاد کے لیے سکیورٹی کے جامع اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت کورکمانڈرز کانفرنس ہوئی، کانفرنس میں شرکا کو ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز اور علاقائی سیکیورٹی امور سے متعلق بریفنگ دی گئی،مغربی سرحدی انتظام میں پیشرفت بھی بریفنگ کا اہم حصہ تھی، فورم نے بھارتی میزائل فائرنگ کے حالیہ واقعہ پر تشویش کی اور تمام پہلوں کا جائزہ لیا، شرکا نے اظہار خیال کیا کہ بھارت کے حادثاتی قرار دیے گئے میزائل واقعے سے بڑی تباہی ہوسکتی تھی۔شرکا نے عزم کا اظہار کیا کہ ملک کے دفاع کیلئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے، بھارتی غلطی کے اعتراف کے باوجود عالمی فورمز واقعہ کا سنجیدگی سے جائزہ لیں، بھارتی اسٹریٹجک اثاثوں کے تحفظ اور پروٹوکول کی جانچ اہم ہے، ایسے خطرناک واقعات کسی بڑے سانحے کا محرک ہوسکتے ہیں، ایسے واقعات علاقائی امن، تذویراتی استحکام کو شدید خطرات میں ڈال سکتے ہیں۔اس دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کامیاب انسداد دہشتگردی آپریشنزکو سراہا، فورم نے ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا عزم کیا، آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے ہدایت کی 23 مارچ کی پریڈ اور او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس کیلئے جامع سیکیورٹی پلان مرتب کیا جائے۔ خیال رہے کہ او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس 22 اور 23 مارچ کو اسلام آباد میں ہو گا جس میں 48 ممالک کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی تصدیق کی ہے، اسی طرح 23 مارچ کو منعقد کی جانے والی یوم پاکستان پریڈ بھی ایک ہائی پروفائل تقریب ہے، یہ تقریب اس مرتبہ زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے کیوں کہ اس کا مشاہدہ او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے وزرائے خارجہ بھی کریں گے۔


