چمالنگ،بی ایس او کے زیراہتمام تعلیمی پروگرام میں بے ضابطگیوں کے خلاف ریلی واحتجاجی مظاہرہ
کوہلو :بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بی ایس او کوہلو زون کی جانب سے آج ڈگری کالج کوہلو سے لیکر بازار تک ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی اور ٹریفک چوک کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں طلباء و دیگر طبقہ ہائے فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بی ایس او کوہلو زون کے صدر مولابخش مری،بی این پی کے سینٹرل ایگزکٹیو کمیٹی کے رکن ملک گامن مری و دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ چمالنگ تعلیمی پروگرام کے تحت کوہلو کے غریب بچوں کو ملنے والی تعلیمی وضائف کا غیرمنصفانہ تقسیم اور اس میں اقرباء پروری باعث تشویش ہے۔ چمالنگ تعلیمی پروگرام کے تحت ایجوکیشن سیکٹر میں جو کام کرنے کا وعدہ ہوا تھا وہ صرف دعوے ہی رہ گئے۔حال ہی میں پاکستان کی لٹریسی لسٹ جاری ہوا ہے جس میں ضلع کوہلوتعلیمی ہوالے سے پورے بلوچستان میں آخری نمبر پر ہے۔
مقررین نے کہا کہ کوہلو کو تعلیمی صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔ چمالنگ تعلیمی پروگرام کے تحت ملنے والے وضائف کو بند کرنا بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔جبکہ کچھ لوگ اب اس پروگرام کو بند کرنے کی باتیں کررہے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ چمالنگ تعلیمی پروگرام کے تحت وضائف کا منصافانہ تقسیم ہو۔ تعلیم ہر شہری کا بنیادی و آئینی حق ہے جس سے کسی بھی صورت دستبردار نہیں ہونگے۔چمالنگ تعلیمی پروگرام کو بند کرنے سے کوہلو کے سینکڑوں بچے تعلیم سے محروم ہوجائینگے۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ چمالنگ تعلیمی پروگرام کے موجودہ نمائندوں کو ہٹاکر انکی جگہ میرٹ کی بنیاد پرنئے نمائندوں کو تعینات کیا جائے
بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں تمام متعلقہ ذمہ داران سے بھرپور مطالبہ کیا ہے کہ چمالنگ تعلیمی پروگرام کے تحت ملنے والے تعلیمی اسکالرشپس کو میرٹ کے بنیاد پر کوہلو کے ضرورت مند بچوں تقسیم کیا جائے۔بصورت دیگر تنظیم اس مسئلے پر شدید احتجاج کریگی۔


