روسی صدر پیوٹن کا500غیر ملکی طیارے واپس کرنے سے انکار
ماسکو:روسی صدر پیوٹن کا غیر 500ملکی طیارے واپس کرنے سے انکار کردیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مغربی اقوام کی طرف سے پابندیوں کے جواب میں صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک نئے قانون پر دستخط کیے جس کا مقصد غیر ملکی کمپنیوں کو روس کو ٹھیکے پر دیے گئے ہوائی جہاز واپس لینے سے روکنا ہے۔ روس کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق روسی فضائی کمپنیاں جو طیارے استعمال کر رہی ہیں ان میں سے 75 فیصد ایسے ہی جو لیز یا کرائے پر حاصل کیے گئے ۔ ان طیاروں کی تعداد515ہے جن کی کل مالیت دس ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ اگر روس کو یہ طیارے واپس کرنا پڑ جاتے ہیں تو روس کی فضائی حدود مسافر بردار طیاروں کے حوالے سے بالکل ویران ہو سکتی ہے۔ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے جو نیا قانون بنایا گیا ہے اس کے تحت غیرملکی طیاروں کو روس میں ہی رجسٹر کیا جائے گا تا کہ شہری ہوابازی کے شعبے میں کوئی خلل نہ پیدا ہواور پروازیں معمول کے مطابق کام کرتی رہیں۔نئے قانون کے تحت روس کی کوشش ہے کہ غیر ملکی طیاروں کی رجسٹریشن اور دیگر سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کا عمل ملک کے اندر ہی مکمل کیا جائے، تاہم اس اقدام کے بعد بھی روس صرف ملک کے اندر ہی پروازیں جاری رکھ پائے گا یا اپنے کچھ اتحادی ممالک کے ساتھ فضائی رابطہ برقرار رکھ پائے گا۔روسی فضائی کمپنی کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ ان طیاروں کو روس میں رجسٹر کیے جانے سے پرہیز کیا جائے گا، کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم یہ جہاز متعلقہ کمپنیوں کو واپس کر دیں۔ اگر ان طیاروں کو روس میں رجسٹر کیا جاتا ہے تو روسی فضائی کمپنی بھی شریک جرم ہو جائے گی۔ اگرچہ نئے قانون میں غیر ملکی طیاروں کو روس میں ہی رجسٹر کرنے کا طریقہ دیا گیا ہے، لیکن فضائی کمپنیوں کے لیے ایسا کرنا ضروری نہیں ہے۔ یہ (قانون)تو طیاروں کو ہائی جیک کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔امریکہ، یورپی یونین اور کئی دیگر ملکوں کی جانب سے روسی طیاروں پر اپنی حدود میں داخلے پر پابندی کے بعد سے روس سے معمول کی بین الاقوامی پروازوں کی اکثریت معطل ہے۔


