حملہ سندھ ہاؤس پر نہیں، سندھ پر ہے،قادر مندوخیل

اسلام آباد:پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قادر مندوخیل کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں کو ہدایات قیادت سے ملتی ہیں۔ سندھ ہاؤس میں فیملیز تھیں۔ یہ سندھ ہاوس نہیں بلکہ سندھ پر حملہ ہوا ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں پی پی رہنما قادر مندو خیل کا کہنا تھا کہ جس طرح پارلیمنٹ لاجز کا واقعہ ہوا تھا وہاں فیملیز بھی ساتھ تھیں، پھر ہم نے سندھ حکومت سے سیکیورٹی کا کہا اور سندھ ہاوس منتقل ہوئے، جمعہ کی شام پھر پی ٹی ائی کے کارندوں نے دو حملے کیے، کارکنان مشتعل تھے، انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کو ہدایات قیادت کی طرف ملتی ہیں۔

گزشتہ روز کی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہاں خواتین بھی سندھ ہاوس میں تھیں، اس سارے معاملے میں اسلام آباد پولیس کا کردار بہت شرمناک تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سندھ پولیس کے چار پانچ سو اہلکار آئے ہوئے ہیں، سندھ پولیس نے سیکیورٹی کی پھر، اسلام آباد پولیس نے انہیں گرفتار کیا۔

اس موقع پر پی پی رہنما نے پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف دوبارہ ایف آئی آر کے اندراج کا اعلان بھی کیا۔ قادر مندوخیل نے کہا کہ ایس ایچ او تھانہ نے رات کو درخواست نہیں لی، جب کہ میں نے میڈیا کا کہا تو پھر درخواست لی۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے خلاف ایف ائی آر کاغذی کارروائی تھی۔ ہم اس ایف آئی آر کو نہیں مانتے۔ اس موقع پر انہوں نے ایف آئی آر کی کاپی پھاڑ دی اور کہا کہ ہم اپنی ایف ائی ار درج کرائیں گے، اگر یہاں بات نہ بنی تو عدالت جائیں گے۔ ہمیں سندھ کے ایم این ایز کے گھروں کا پتا ہے لیکن ان پر حملہ کرنے کی تربیت نہیں ہے۔

پی پی رہنما کے مطابق گزشتہ رات میں اپنے لوگوں کے ساتھ تھانے گیا لیکن مجھے اندر نہیں جانے دیا گیا، وہاں شہباز گل نے اپنے ساتھیوں کو چھڑوا لیا۔ یہ سندھ ہاوس نہیں بلکہ سندھ پر حملہ ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں