عدم اعتماد کے ووٹ کیلئے پارلیمنٹ کا راستہ نہیں روکنے دیں گے، رانا ثنااللہ

اسلام آباد (انتخاب نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک غیرآئینی یا جرم ہے تو اپوزیشن واپس لے لیتی ہے، عدم اعتماد کے ووٹ کیلئے پارلیمنٹ کا راستہ غنڈہ گردی سے نہیں روکنے دیں گے، اسپیکر کو اجلاس بلانا چاہیے، اگر پی ٹی آئی کی پالیسیوں سے لوگ ناراض ہیں تو یہ ہمارا قصور نہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ نالائق ٹولہ اِس ملک پر مسلط ہے، اب اِن کے پاس اکثریت نہیں رہی تو یہ غنڈی گردی پر اتر آئے ہیں، اگر پی ٹی آئی کے لوگ ان کی گورننس، کرپشن اور پالیسیوں سے ناراض ہیں تو یہ ہمارا قصور نہیں، عدم اعتماد کی تحریک کا ووٹ اور پارلیمنٹ کا راستہ غنڈہ گردی اور بدمعاشی سے نہیں روک سکتے۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کا طریقہ کار آئین اور قانون میں درج ہے اس کے مطابق اسپیکر اجلاس کیوں نہیں بلاتا، کیا عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنا جرم ہے؟ غیرقانونی اور غیرآئینی ہے؟ حکومت اجلاس بلانے کی بجائے ممبرز کے گھروں پر پتھرا کر رہی ہے یہ گھیرا اور جلا کی سیاست کررہے ہیں۔دوسری جانب اپوزیشن کا حکومت کے خلاف پلان بی سامنے آ گیا ہے،وزیراعظم کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانا پلان اے ہے، اتحادی جماعتوں، منحرم ارکان سے رابطے پلان کا حصہ تھے، تحریک عدم اعتماد میں ناکامی کی صورت پلان بی پر عمل کیا جائے گا۔تحریک عدم اعتماد ناکام پونے پر پلان بی پر فوری عمل درآمد ہو گا۔پلان بی میں منحرف ارکان اسمبلی کے استعفوں کا آپشن بھی موجود جب کہ وزیراعظم سے اعتماد کا ووٹ لینے کا قانون و آئینی طریقہ کار کے مطابق مطالبہ کیا جائے گا اور اس حوالے سے صدرِ ملکت، اسپیکر اسمبلی کو تحریر طور پر معاملے پر آگاہ کیا جائے گا۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے متحدہ اپوزیشن سرگرم ہے۔وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے کم از کم 172 ارکان درکار ہیں، تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کی کل تعداد 179 بنتی ہے، اپوزیشن کے پاس 162 ارکان کی حمایت موجود ہے، قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 155، مسلم لیگ ق کے 5، ایم کیو ایم کے 7، جی ڈی اے کے 3، آل پاکستان مسلم لیگ کا 1، بلوچستان عوامی پارٹی کے 5 اور شاہ زین بگٹی کی ایک نشست ہے جبکہ ایوان میں کل 4 آزاد امیدوار ہیں، دو ارکان حکومت کے ساتھ ہیں۔رپورٹ کے مطابق اپوزیشن میں ن لیگ کی 84، پیپلزپارٹی 56، اے این پی 1، ایم ایم اے 15 اور دو آزاد امیدوار شامل ہیں، اپوزیشن ارکان کی کل تعداد 162 بنتی ہے۔ حزب اختلاف کو اپنی تحریک عدم اعتماد کامیاب کرانے کیلئے مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم کی حمایت کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں