وزیراعلیٰ پنجاب کا پتوکی واقعے کا نوٹس، 12 افراد زیر حراست

پتوکی (انتخاب نیوز) پتوکی قصور میرج ہال میں باراتیوں کے مبینہ تشدد سے محنت کش جاں بحق ہو گیا۔ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب نے پتوکی واقعے کا نوٹس لے لیا، پولیس نے واقعے میں ملوث 12 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔پولیس کی ٹیموں نے رات گئے کنگن پور، پتوکی اور سرائے مغل میں کاروائی کرکے 12افراد کو حراست میں لیا۔ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ڈاکٹرز نے متوفی کے جسم پر تشدد کی تصدیق نہیں کی تاہم واقعہ کی ہر پہلو سے انکوائری کی جا رہی ہے۔ڈی پی او قصور نے بتایا کہ پی ایف ایس اے کی ٹیم نے جائے وردات سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔حتمی رپورٹ آنے کے بعد اصل حقائق سامنے آئیں گے۔ خیال رہے کہ یہافسوسناک واقعہ گذشتہ روز پیش آیا تھا۔بتایا گیا کہ پنجاب کے شہر پتوکی میں شادی ہال میں پاپڑ بیچنے والا مزدور باراتیوں کے تشدد سے جاں بحق ہوگیا۔ پتوکی کے شادی ہال میں باراتیوں نے پاپڑ بیچنے والے مزدور کو تشدد کا نشانہ بنا کر مار ڈالا، پولیس کا کہنا ہے کہ شادی میں آئے افراد نے مزدور اشرف سلطان پر جیب کاٹنے کے الزام میں تشدد کیا۔پولیس کے مطابق مزدور کی لاش شادی ہال میں پڑی رہی اور لوگ کھانا کھانے میں مصروف رہے، پولیس نے مقتول کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کردیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ شادی ہال کے منیجر کو حراست میں لے لیا گیا ہے، واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او شیخوپورہ سے رپورٹ طلب کرلی۔ عثمان بزدار نے کہا کہ ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے، ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں، جاں بحق نوجوان کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔آئی پنجاب نے ڈی پی او قصور کو ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کا حکم دے دیا، ان کا کہنا تھا کہ ملوث افراد کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں