تصادم میں ملوث طلباءکیخلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی ،ترجمان وفاقی اردو یونیورسٹی

کراچی (انتخاب نیوز) وفاقی اردو یونیورسٹی کے ترجمان نے 22 مارچ 2022 کو گلشن اقبال کیمپس، کراچی میں طلبہ کے دو گروپوں کے مابین ہونے والے تصادم کے بابت ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ بیان میں واقعہ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ دو طلبہ گروپوں کے مابین اس تصادم کے فورا بعد انتظامیہ کے سیکیورٹی عملے نے مداخلت کرتے ہوئے اس تصادم کی شدت کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلع کردیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بلا کسی تاخیر یونیورسٹی پہنچ کر اس تصادم کو رکوانے میں انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ بعدازاں انتظامیہ کی طرف سے فوری طور پر ایک اعلی سطحی انتظامی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا جس میں اس واقعہ کے بابت کیمپس آفیسر کی طرف سے پیش کی گئی تفصیلی رپورٹ پر غور کرتے ہوئے اہم فیصلے کیے گئے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ یونیورسٹی میں نصب CCTV کیمروں کی مدد سے جن ملوث طلبہ کی نشاندہی ہوئی ہے فوری طور پر ان کے خلاف نہ صرف بیرونی قانونی چارہ جوئی کی جائے گی بلکہ یونیورسٹی کے قوانین کے تحت تشکیل دی گئی انضباطی کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ 2سے 3ایام میں اپنی سفارشات بمطابق یونیورسٹی قوانین جمع کروائیں تاکہ ان ملوث عناصر کے خلاف اندرونی طور پر بھی سخت سے سخت کارروائی عمل لائی جاسکے۔ مزید یہ فیصلہ کیا گیا کہ یونیورسٹی کانام استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جتنے بھی گروپ بنائے گئے ہیں جن کے ذریعہ ان تضادات کو بڑھاوا دیا جاتا ہے ایسے تمام گروپوں کے خلاف سائبر قوانین کے تحت کارروائی کے لیے متعلقہ اداروں سے رجوع کرتے ہوئے انہیں غیر فعال کروایا جائے گا۔ ترجمان نے بتایا کہ اس اعلی سطحی کمیٹی نے کیمپس آفیسر سے اس ضمن میں مزید تحقیقات کرکے سفارشات جمع کروانے کی تاکید کی تاکہ ان کی روشنی میں مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جاسکے اور یونیورسٹی کے تدریسی و انتظامی ماحول میں کوئی تعطل نہ آئے۔ ترجمان کے مطابق انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ حالیہ واقعہ میں ملوث عناصر کو کسی بھی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گا اور انتظامیہ بغیر کسی رعایت کے ادارہ کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے تمام قانونی آپشن استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں