معمول کی یکسانیت
تحریر: جمشید حسنی
اگر آپ کا خیا ل ہے میرے پاس آپ کے لئے روز مرہ کی معمولیات معاملات،مصروفیات خیالات ہے میرے کوئی خاص معلومات ہیں تو ایسی کوئی بات نہیں۔ہر شخص اپنے علم‘ مشاہدہ‘ تجربات‘ مشاہدات کی بناء پر معاملات کو پرکھتا ہے۔ایک اجتماعی سوچ بنتی ہے۔ہم خیال لوگ اکھٹے ہوتے ہیں قو میں بنتی ہیں ان کے لئے علاقائی معاشرتی نظریاتی معاشی مفادات ہوتے ہیں جن کی بنیا د پر وہ اپنے بقاء کے لئے دوسروں سے لڑتے ہیں سکندر،چنگیز،ہینی بال،امیر تیمور،کوروش،ہلاکو خان،تمام جنگیں وسائل علاقہ پر قبضہ کے لئے لڑی گئیں۔آج کی دنیا میں ہم ایک نظریاتی ملک ہیں جس کا عقیدہ اسلام ہے اگر چہ ثقافتیں علاقہ رسم ورواج رہن سہن قدر ے مختلف سوچتے ہیں سیاسی پارٹیاں بنتی ہیں ملک کا ایک آئین ہوتا ہے۔عوام کو رائے دہی حاصل ہوتا ہے قومی معاملات بحث مباحثہ اتفاق رائے سے حل ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں اس وقت ملک میں قدرے سیاسی بے چینی ہے۔سیاسی پارٹیاں ملکی مسائل کو مختلف انداز سے دیکھتی ہیں حکومت کے خلاف حزب اختلاف کی عدم اعتماد کی تحریک ہے۔ملکی مسائل کے ہر ایک کے پاس مختلف حل ہیں۔حالات کیوں نہیں سدھرتے دراصل بین الاقوامی حالات ہے کوئی ملک علیحدہ ہو کر نہیں سوچ سکتا۔عالمی کورونا کی وباء ہے روس یوکرین جنگ ہے۔تیل مہنگا ہے۔روس کے روبل کی قیمت تیس فیصد گر گئی ہے امریکہ میں تیل چارڈالر گیلن ہے۔دنیا کی بیشتر معیشتیں برآمدی تیل پر انحصار کرتی ہیں تیل مہنگا ہوتا ہے ہر چیز مہنگی ہوتی ہے۔ملک میں ہفتہ عشرہ میں تحریک اعتماد کا نتیجہ نکل آئے گا۔پھر کیا ہوگا حکومت رہے یا نہ رہے دونوں صورتوں میں معیشت پر کوئی اثر نہیں پڑ ے گا۔قومی پیداوار راتوں رات نہیں بڑھتی معیشت پر سرمایہ دار قابض ہیں۔عمران خان بھی مافیا ز کا اصرار کرتے ہیں۔گندم کا بحران ہوا یا چینی فائدہ چند لوگ اٹھائیں گے۔عمران جہانگیر ترین کا کچھ نہ بگاڑ سکے،غیر ملکی قرضے ہر حال واپس کرنے ہوں گے انتظامی اخراجات کم نہیں ہورہے حکمرانی کے انداز نہیں بدلے عام آدمی کو کچھ نہیں ملتا،حکمران رو سو کے دی پرنس ہیں۔جو طاقت اقتدار کے لئے ہر حربہ چال سازش کو جائز سمجھتے ہیں۔
میں نے بار ہا عرض کی ہم انقلابوں سے نکلی قو م نہیں ایران،افغانستان میں انقلاب آئے۔برطانیہ میں صدیوں پہلے میگنا کاٹا آیا۔جمورالی نے معاشرہ کو قانون دیا۔اشوک کے قواتین آج بھی ہر بر صغیر کی چٹانوں پر کندہ ہیں۔انسانوں کی بھلائی کے لئے پیغمبروں پر آسمانی کتابیں نازل ہوئی جو آج بھی رہنمائی کرتی ہیں۔
تحریک عدم اعتماد گزر جائیگی عام آدمی مصروف ہے۔ملک میں جلد ہی گندم کی کٹائی شروع ہو جائے گی کسان کو جلسے جلوس کی فرصت نہیں عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لئے پریشان ہے قیادت موروثی ہے انصاف مہنگا ہے وکیلوں کی من مانیاں تعلیم علاج کا روبار ہے۔اب تو حکومت صحت کارڈ چار سو نجی ہسپتالوں سے علاج کروائے گی۔
جو بھی ہے انتظار کریں ہمیں نہ تو عمران خان سے چڑ ہے نہ چوہدری،میاں،زرداری ہمارے مامے ہیں۔
حبیب جالب نے کہا۔
”میرے تیرے بیٹے نے چپڑاسی ہی بنتا ہے“


