وفاقی وزراء سید امین الحق اور فروغ نسیم کا مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ

اسلام آباد:وفاقی کابینہ میں شامل متحدہ قومی موؤمنٹ (ایم کیو ایم ) کے دو وفاقی وزرا فروغ نسیم اور امین الحق نے وزارتوں سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ میں اور امین الحق استعفی دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیرعظم آفس تک میرا استعفیٰ ایک بجے تک پہنچ جائے گا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فروغ نسیم نے سال 2020 میں بھی سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں وفاق کی نمائندگی کے باعث عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔

گزشتہ سال بھی فروغ نسیم نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے کیس کی پیروی کے لیے استعفیٰ دیا تھا اور کیس ختم ہونے کے بعد نومبر 2019 میں دوبارہ وزیر قانون کا عہدہ سنبھال لیا تھا۔ فروغ نسیم آرمی چیف کے معاملے پر سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کے ہمراہ حکومت کی طرف سے پیش ہوئے تھے۔

آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع کا معاملہ حل ہونے کے بعد بیرسٹر فروغ نسیم نے وزیر اعظم کی منظوری کے بعد دوبارہ اپنا عہدہ سنبھال لیا تھا۔ فروغ نسیم نے پاکستان بار کونسل سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔

واضح رہے کہ امین الحق نے بحیثیت وفاقی وزیر برائے ٹیلی کمیونی کیشن عہدے کا حلف اپریل سال 2020 میں اٹھایا تھا، اس سے قبل یہ قلمدان ایم کیو ایم رہنما ہی کے پاس تھا، تاہم خالد مقبول صدیقی کے استعفیٰ دینے کے بعد یہ وزارت امین الحق کو دے دی گئی تھی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیرِ اعظم عمران خان کی ایڈوائس پر امین الحق کو وزارتِ آئی ٹی کا قلم دان سونپا تھا۔سید امین الحق 2018ء کے انتخابات میں ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی کے ضلع غربی کے حلقے این اے 251 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں