حکومت سے نکلنے کے فیصلے میں کسی ادارے سے ہدایات نہیں لی، ایم کیو ایم
اسلام آباد (انتخاب نیوز) پی ٹی آئی کے زوال میں اس کے اپنے ارکان کی بغاوت نے اہم کردار ادا کیا،حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد وفاقی کابینہ کو خہر باد کہہ دیا،دونوں وفاقی وزرا فروغ نسیم اور امین الحق مستعفی ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد وفاقی کابینہ کو خہر باد کہا جس کے بعد اس کے دونوں وفاقی وزرا فروغ نسیم اور امین الحق مستعفی ہوگئے۔مستعفی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے زوال میں اس کے اپنے ارکان کی بغاوت نے اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت سے نکلنے کے ایم کیو ایم کے فیصلے میں کسی ادارے سے ہمیں کسی قسم کی ہدایت نہیں تھی۔اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کا کیس خالد مقبول صدیقی کی اجازت سے لڑا اور انہی کی اجازت سے دو بار مستعفی ہوا اور پھر حلف بھی اٹھایا۔واضح رہےکہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو بڑا سرپرائز دیا گیا اور بڑی حکومتی اتحادی ایم کیو ایم نے بھی اپوزیشن کے حق میں ووٹ دینے کا معاہدہ کر لیا۔خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت کی اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے اپوزیشن کے ساتھ معاملات طے پاگئے اس حوالے سے دونوں فریقین کا معاہدہ بھی ہوگیا ،جس کے بعد سے وفاق میں مسند اقتدار پر فائز پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پارلیمان میں اپنی عددی اکثریت کھوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کو منانے کے مشن کی کامیابی کے لیے فیصل واوڈا کو میدان میں اتار دیا ، حکومتی اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جانب سے اپوزیشن کے ساتھ معاملات طے پانے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی آئی کے رہنما فیصل واوڈا سے فون پر رابطہ کیا اور انہیں ایم کیو ایم سے بات چیت کی ذمہ داری سونپ دی ، جس کے ساتھ ہی وزیراعظم کی ہدایت پر فیصل واوڈا فوری طور پر کراچی سے اسلام آباد پہنچ گئے جہاں وہ آج حکومتی ٹیم کے ہمراہ ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کریں گے۔


