بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021ء نفاذ کے آغاز سے ہی مشکلات کا شکار
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ2021 فروری میں نافذ کیا گیا اور اس کے بعد15 فروری 2021 میں گورنربلوچستان نے اس کی توثیق کی تاکہ عوامی اہمیت کے معاملات میں سرکاری افسران کی شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔اس قانون کے تحت شہری سرکاری اداروں سے 15ایام کار کے اندر معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔اس قانون کا نفاذ آغاز سے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ قانون کے سیکشن 18 کے تحت بلوچستان گورنمنٹ 120 دنوں کے اندر بلوچستان انفارمیشن کمیشن قائم کرنا تھا۔ یہ کمیشن ایک خودمختار قانونی ادارہ ہوگا، جو شکایات سے نمٹنے، سماعت کرنے، سمن جاری کرنے، سرکاری افسران کی تربیت کا انعقاد اور آر ٹی آئی قانون اور اس کی اہمیت کے بارے میں شہریوں میں بیداری پیدا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ قانون کے سیکشن 6 کے تحت بلوچستان حکومت کو پابند کرتا ہے کہ وہ تمام انتظامی اور منسلک محکموں میں پبلک انفارمیشن افسران کو نامزد کریگا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ 410 دن گزرنے کے باوجود حکومت بلوچستان کمیشن قائم کرنے میں ناکام رہی ہے اور نہ ہی کسی محکمے میں پی آئی اوز کو نامزد کیا گیا۔ پبلک انفارمیشن افسران درخواست کردہ کو معلومات فراہم کرنے کے ذمہ دار ہوں گے اور تاخیر یا انکار کی صورت میں بلوچستان انفارمیشن کمیشن کو ان شکایات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ بلوچستان انفارمیشن کمیشن اور پبلک انفارمیشن افسران کے نامزدگی کے بغیر یہ قانون غیر فعال ہے اور شہریوں کو معلومات کی فراہمی ممکن نہ ہے۔ اس امر میں بلوچستان حکومت معلومات کی فراہمی، شفافیت اور احتساب کے عمل میں ناکام ہے۔مذکورہ صورتحال سے متعلق سی آر ٹی آئی کی جانب سے ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں سی پی ڈی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مختار احمد علی، ڈاکٹر رضا علی گردیزی، پاکستان پریس فاؤنڈیشن کے اویس اسلم، شمائلہ شہانی، سلام خان اور جنید خان نے شرکت کی۔ میٹنگ میں ایکٹ کے حوالے سے جو صورتحال ہے اس کے بارے میں چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جس میں کہا گیا کہ بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 کے سیکشن 18 کے مطابق فوری طور پر بلوچستان انفارمیشن کمیشن قائم کیا جائے۔ بلوچستان حکومت انفارمیشن کمیشن کے سروس رولز کے مسودے، منظوری اوراشاعت کرنے کے لیے مناسب اقدامات کریں تاکہ کمیشن مطلوبہ عملہ بھرتی کر سکے۔ بلوچستان حکومت اس قانون کے سیکشن5کے تحت معلومات کی از خود فراہمی کو ویب سائیٹ کے ذریعے یقینی بنائے اور اس عمل کے لیے مطلوبہ فنڈز فراہم کرے۔ معلومات تک رسائی کا قانون کے سیکشن6 کے تحت سرکاری اداروں میں پبلک انفارمیشن افسران کونامزد کیا جائے اور انکی تفصیلات ویب سائیٹ کے ذریعے از خود فراہم کی جائے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افسران کی نامزدگی نام کی بجائے انکے عہدے کے ذریعے کی جائے تاکہ متعلقہ آفیسر کے تبادلے، ریٹائرمنٹ یا موت کی صورت میں تسلسل جاری رکھا جائے۔ تمام سرکاری ادارے ریکارڈ کو منظم انداز میں محفوظ اور کمپیوٹرائزیشن کو یقینی بنائیں اور اس امر کے لیے مطلوبہ فنڈز مہیا کیا جائے۔ بلوچستان حکومت انفارمیشن کمیشن کے لیے مناسب فنڈز مختص کرے تاکہ کمیشن سرکاری افسران کی تریبیت اور عوامی شعور اجاگر کرنے والی ذمہ اداری ادا کر سکے۔ ریکارڈ کو ڈیجیٹائز کرنے کے لئے اقدامات کریں اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے شہریوں کی ریکارڈ اور معلومات تک رسائی کو آسان بنایا جائے۔


