پنجاب حکومت کا ایوان میں متحدہ اپوزیشن کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
لاہور (انتخاب نیوز) پنجاب اسمبلی میں آج بروز بدھ ہونے والے قائد ایوان کے الیکشن میں متحدہ اپوزیشن کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لئے حکمت عملی طے کرلی ہے۔ جس کے تحت آج ہونے والے اجلاس کی صدارت کرنے والے سپیکر پنجاب اسمبلی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کریں گے جس کے نتیجے میں پنجاب اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کے 15 سے 20 اراکین پنجاب اسمبلی کو معطل کردیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ان اراکین پنجاب اسمبلی کی معطلی کے لئے 3 اپریل کو ہی سپیکر پنجاب اسمبلی نے انکوائری ٹیم تشکیل دے دی تھی۔ جو 3 اپریل کو پنجاب اسمبلی کے ایوان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کی مبینہ رپورٹ تیار کر کے سپیکر پنجاب اسمبلی کو پیش کر چکی ہے جبکہ سپیکر پنجاب اسمبلی انکوائری ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں متحدہ اپوزیشن کے 15 سے 20 اراکین پنجاب اسمبلی کو معطل کر کے ان سے ووٹ کا حق چھین سکتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے حکمران جماعت کے اراکین نے سٹیج سجانے کے لئے باقاعدہ توڑ پھوڑ کی اور چیزوں کو نقصان پہنچانے کے بعد نقصان کا ذمہ دار متحدہ اپوزیشن کے ارکان کو ٹھہرا دیا ہے جبکہ دوسری طرف شہر کے سیاسی حلقے یہ بھی بتا رہے ہیں کہ چودھری برادران اور بالخصوص چودھری پرویز الٰہی نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا منصب حاصل کرنے کے لئے اپنی سیاسی ساخ کو داﺅ پر لگا دیا ہے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی نے مجبوری میں اپنی بیٹے کی ضد کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہ قدم اٹھایا ہے۔


