بیرونی سازش کی جوڈیشل کمیشن سے تحقیقات کرائی جائیں، شاہ محمود قریشی
اسلام آباد (انتخاب نیوز) شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مبینہ دھمکی آمیز خط اور بیرونی سازش کے ذریعے حکومت گرانے کی کوشش کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن قائم کر کے تحقیقات کرائی جائیں۔سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن اراکین قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی میں شرکت کرتے تو انھیں مبینہ دھمکی آمیز خط کے حوالے سے مطمئن کیا جاتا۔انہوںنے کہاکہ اپوزیشن کے اہم لوگوں نے مبینہ دھمکی آمیز خط کو جعلی کہا۔ وزیر اعظم نے قومی سلامتی کا اجلاس طلب کیا۔ اس کے سامنے وہ رابطہ رکھا گیا۔تبادلہ خیال ہوا، مختلف ممبران نے اسے دیکھا اور پرکھا۔ انھوں نے دو فیصلے کیے، ایک فیصلہ یہ کہ فی الفور دفتر خارجہ احتجاج کرے واشنگٹن اور اسلام آباد میں،دوسرا پارلیمان کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس طلب کریں۔انہوںنے کہاکہ اپوزیشن نے پارلیمانی کمیٹی میں شرکت نہیں کی، وہ مناسب فورم تھا، انھیں مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے انکار نہیں کیا،نئی صورتحال سامنے آئی ہے اس کا جائزہ لیں گے۔ انھوں نے صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے تحریک کو ڈس الا کیا، انھوں نے کہا کہ سیاسی مداخلت کے جو حقائق ہیں وہ حکومت کی تبدیلی کی کوشش کو ثابت کرتے ہیں۔انھوں نے تجویز دی کہ معاملے کے حل کیلئے ایک طریقہ جوڈیشل کمیشن کا ہے،اس ضمن میں انھوں نے سات نکات بیان کیے اور کہا کون ملا، کس سے ملا، کہاں ملا، یہ حقائق قوم کے سامنے کون رکھے گا۔ یہ بھی دیکھنے کی بات ہے۔


