عدالتی فیصلہ آجائے تو اس کے مطابق عمل ہونا چاہیے، اٹارنی جنرل

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کا کہنا ہےکہ میں ہمیشہ عدالت میں عدالتی فیصلے تک لڑتا ہوں ، فیصلہ ہو جائے تو اس کی روح کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔ٹارنی جنرل سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ نے وزیر اعظم سے ملاقات میں استعفے کی پیشکش کی؟ اٹارنی جنرل نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔خیال رہےکہ جمعرات کو سپریم کورٹ میں اپنے دلائل میں حکومت کے دفاع کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کا کہنا تھا کہ کسی رکن اسمبلی کو عدالتی فیصلے کے بغیر غدار نہیں کہا جاسکتا، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا دفاع نہیں کروں گا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ان کا آخری کیس ہے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی 3 اپریل کی رولنگ کوکالعدم قرار دیتے ہوئے آج قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ دیا کہ تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کی ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی 3 اپریل کی رولنگ اور وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر کی جانب سے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنا آئین سے متصادم تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی بحال کردی۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اسپیکر فوری طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں، قومی اسمبلی اجلاس ہرصورت 9 اپریل صبح 10:30 بجے سے پہلے بلایا جائے، تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ بھی صبح 10 بجے کرائی جائے، ووٹنگ کرائے بغیر اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہ کیا جائے، تحریک عدم اعتماد منظور ہو جاتی ہے تو اسمبلی نئے وزیر اعظم کا انتخاب کرے۔ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر اسی اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے، سپیکر سمیت تمام حکام پابند ہیں کہ سپریم کورٹ کے حکم پر فوری عملدرآمد کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں