سپریم کورٹ کا فیصلہ، ڈپٹی سپیکر کیخلاف کوئی کارروائی تجویز نہیں کی گئی
اسلام آباد (انتخاب نیوز) پاکستان کی عدالت عظمیٰ کی جانب سے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی تین اپریل کی رولنگ کو آئین سے متصادم قرار دیے جانے کے بعد سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ایسا کرنے کی وجہ سے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان کی رولنگ کو غیر آئینی تو قرار دیا لیکن کوئی کارروائی تجویز نہیں کی۔ پاکستان کی اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے جمعے کے روز ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی ہے۔ تحریک عدم اعتماد میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے بارہا قواعد، پارلیمانی طور طریقوں، جمہوری روایات اور یہاں تک کہ آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ قرارداد میں ڈپٹی سپیکر کی جانب سے تین اپریل کی رولنگ کے ذریعے تحریکِ عدم اعتماد مسترد کرنے، اور سات اپریل کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے اسمبلی کی بحالی کا حوالہ دیا گیا ہے۔


