عید سے قبل تنخواہ اور دیگر واجبات ادا کیے جائیں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان

کوئٹہ (آن لائن) جوائنٹ ایکشن کمیٹی یونیورسٹی آف بلوچستان ٹیچرز، آفیسرز اور ایمپلائز ایسوسی ایشن کے جانب سے جامعہ کے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین کو درپیش مسائل جس میں مکمل تنخواہوں کی بروقت ادائیگی بشمول اضافہ شدہ 44 فیصد ہاوس ریکوزیشن، اردلی الاؤنس، یوٹیلیٹی الاؤنس،25 فیصد ڈسپیریٹی الاؤنس، ہاؤس بلڈنگ ایڈوانس، ریٹائرڈ اساتذہ، آفیسرز اور ملازمین کی پنشنز کی بروقت ادائیگی، بائیومیٹرک حاضری، آفیسرز اور ملازمین کے پروموشن، ٹائم اسکیل سمیت دیگر درپیش مسائل کے حل کیلئے پچھلے 27 دنوں سے جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں آج منگل کو جامعہ بلوچستان سے اپنے جائز حقوق کے لئے زبردست احتجاجی لانگ مارچ نکالا گیا جس میں سینکڑوں اساتذہ کرام، آفیسرز اور ملازمین نے شرکت کی، لانگ مارچ گورنر ہاؤس کے قریب ہاکی چوک پر احتجاجی دھرنے میں تبدیل ہوا جہاں پر مظاہرین نے اپنے جائز مطالبات کے حق میں زبردست نعرے بازی کی اور گورنر و چانسلر جامعہ بلوچستان کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنا تے ہوے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ جامعہ کے ملازم دشمن وائس چانسلر ٹریڑار، پرو وائس چانسلر اور رجسٹرار کو سختی سے فوری تاکید کرے کہ وہ منظور شدہ الاؤنسز کی فوری ادائیگی کرے بعد میں مظاہرین ایک بڑے احتجاجی جلوس کی شکل میں شہر کی مختلف روڈں سے ھوتے ھوئے پریس کلب کوئٹہ کے سامنے ایک بہت بڑے جلسے میں تبدیل ہوا۔ مظاہرین نے پریس کلب کے سامنے پرجوش انداز میں نعرے بازی کی، احتجاجی جلسے سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، شاہ علی بگٹی، نذیر احمد لہڑی، فریدخان اچکزئی، عبدالباقی جتک، عنایت اللہ بڑیچ، نجیب ترین، سید محبوب شاہ، سید شاہ بابر، زرعی یونیورسٹی کوئٹہ کے پروفیسر عبدالرزاق، پروفیسر احمد جان، آل بلوچستان لیبر یونین کے عابد بٹ اور ال پاکستان لیبر یونین کے عبدالستار کاکڑ نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر کی ہٹ دھرمی اور اناپرستی نے جامعہ بلوچستان کے ملازمین کو جامعہ بلوچستان سے لیکر پریس کلب تک لانگ مارچ پر مجبور کیا، کامیاب لانگ مارچ میں ملازمین کی بڑی تعداد میں شرکت نے ثابت کردیا کہ وہ اپنے جائزحقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرینگے اور اپنے جائزحقوق چھین کرلینگے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر جائز مطالبات کی نوٹیفکیشن نہیں کیا گیا تو وائس چانسلر،پرو وائس چانسلر، ٹریژار اور رجسٹرار آفس کی تالا بندی کی جائے گی۔ مقررین نے صوبائی حکومت کی طرف سے صوبے بھر کی جامعات کے لئے صوبائی اسمبلی میں پیش کردہ بل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ قانون کے ذریعے تمام سرکاری جامعات کی پالیسی ساز اداروں خصوصاً سنڈیکیٹ، سینٹ، اکیڈمک کونسل سے اساتذہ کرام، آفیسران، ملازمین، طلبا وطالبات یہاں تک کہ ممبران صوبائی اسمبلی کی منتخب نمائندگی یکسر ختم کرکے دراصل تمام سرکاری جامعات کو آمرانہ طرز پر چلانے کی مذموم سازش قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک تعلیم و صوبہ دشمن اقدام ہے جس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا کہ بروز بدھ کو پھر جامعہ بلوچستان میں دن گیارہ بجے آرٹس بلاک کے سامنے احتجاجی ریلی ھوگی اور وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا ھوگا جس میں شرکت کیلئے جامعہ کے اساتذہ کرام،آفیسران اور ملازمین زیادہ سے زیادہ تعداد میں حاضری یقینی بنائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں