پاک افغان سرحد پر فورسز کی جانب سے بے جا پابندیاں جائز حقوق پر ڈاکہ ہے، رحیم آغا
کوئٹہ؛انجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ)کے صدر رحیم آغا اور مرکزی عہدیداران نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ چمن پاک افغان بارڈر پر جاری کاروباری سرگرمیوں پرسیکورٹی فورسزکی جانب سے خودساختہ پاپندیوں اور کاروباری سرگرمیوں میں چمن کے مقامی تاجر برادری کو یکسر نظر انداز کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور کورکمانڈروزیراعلی سمیت دیگر اعلی حکام سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ سانحہ 30جولائی اورسانحہ29نومبر کے بعدانجمن تاجران بلوچستان رجسٹرکے رہنماوں کاعسکری قیادت کیساتھ کئی بار میٹنگز کے بعد یہ معاہدہ طے پایاکہ چمن پاک افغان بارڈر کے کاروبار پر سب سے پہلے چمن کے مقامی تاجر برادری اور مزدوروں کاحق ہوگا مگر اب سیکورٹی فورسز اپنے وعدوں کی پاسداری کئے بغیر مقامی تجارت پرچمن سے باہر خاص کر افغانستان کے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے تاجروں اور مزدوروں کو باڈر پر کاروبار کھل کر کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے جس کے باعث چمن کے مقامی تاجر برادری اور مزدور طبقہ ایک بار پھر بے روزگار ہوکرنان شبینہ کا محتاج ہوگئی ہے انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کے رہنماوں نے مزیدکہا کہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے یہ عمل نہ صرف ہمارے شہدا کے خون کی تزلیل بلکہ ہمارے جائز حقوق پرڈاکہ ڈالنے کی مترادف عمل بھی ہے جسکو ہم کسی بھی صورت وقیمت برداشت نہیں کریں گے اگر سیکورٹی فورسز نے انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کیساتھ کئے گئے وعدوں پرعملددرآمد نہ کیا تو عید کے بعدپرامن احتجاجی تحریک چلانے سے دریغ نہیں کریں گے۔


