ایم پی اے لاجز کے مسائل، بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈران کا اجلاس ہفتہ کو طلب

کوئٹہ: اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر جان محمد جمالی نے ایم پی اے لاجز کے مسائل پر بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈران کا اجلاس ہفتہ کو طلب کرلیا، اسپیکر نے سندھ پولیس کی جانب سے صوبے کے ٹرانسپورٹرزکو بلاجواز تنگ،پانی کے مسئلے کر نے کے معاملات پر وزیراعلیٰ بلوچستان کو وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کر نے کی رولنگ دے دی، بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعرات کے روز پونے دو گھنٹے کی تاخیر سے اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر جان محمد جمالی کی زیر صدارت شروع ہوا اجلاس میں بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شایوانی نے پوائنٹ آف آرڈر پر ایوان کی توجہ بلوچستان اور سندھ کے بارڈر جیک آباد میں سندھ پولیس کی جانب سے بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز کو تنگ کرنے کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ سندھ پولیس ٹرانسپورٹرز کو روک کر ان سے پیسے وصول کررہی ہے جس کے تدارک کیلئے بلوچستان حکومت اقدامات اٹھائے،اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر جان محمد جمالی نے رولنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر سید احسان شاہ کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ بلوچستان سے بات کرکے انہیں کہیں کہ وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کرکے انٹر پروینس کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس طلب کرکے اس میں اس معاملہ کو اٹھائیں اجلاس میں وفاق میں انٹر پروینس کوآرڈینیشن کے بننے والے وزیر کو بھی اجلاس میں مدعو کیا جائے،بحثیت اسپیکر وہ خود بھی اس میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پانی کے مسئلہ کو بھی اتھایاجائے۔انہوں نے کہاکہ سندھ پولیس کے حوالے سے مشور ہے کہ ابھی سے وہ عیدی جمع کررہ یہیں ایک مرتبہ مجھے بھی سندھ پولیس نے روک کر کہا کہ سائیں آپ کو تو نہیں روک سکتے البتہ عیدی دیدیں۔ اجلا س میں جمعیت علماء اسلام کے رکن اسمبلی سید عزیز اللہ آغا نے پشین میں رمضان المبارک کے دوران گیس اور بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کرتے ہوے کہا کہ گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ سے جہاں شیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے وہیں امور خانہ داری بھی شدید متاثر ہورہی ہے اجلاس میں بی این پی کی رکن اسملبی شکیلہ نوید دیوار نے اجلاس میں ایم پی ہاسٹل کے لارجز سے موٹر سائیکل چوری کی واقعات ہورہے ہیں چند روز قبل رکن اسمبلی عبدالواحد صدیقی کے لارجز کے سامنے سے موٹر سائیکل چوری ہوئی تھی گزشتہ روز میری لارجز کے سامنے سے میرے پی ایس کی موٹر سائیکل کو چوری کی گئی ہے،ا نہوں نے ایم پی اے ہاسٹل کو سیکورٹی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمرے غیر فعال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے لارجز کیلئے نصب بجلی کے میٹرز کو تھری فیس کے نام پر لگایا گیا ہے اور لاکھوں روپے کے بل بھجوائے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ دو کمروں کی فلائٹس میں ارکان اسمبلی کوئی کارخانہ نہیں چلارہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیکورٹی کے انتظامات کو بہتر کیا جائے۔ اسپیکر بلوچستان اسمبلی جان محمد جمالی نے کہا کہ ہفتہ کے روز تمام پارلیمانی لیڈرز کا اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں سیکورٹی بجلی کے مسائل کو اٹھایا جائے گا وزیراعلیٰ بلوچستان سے بھی درخواست کرونگا کہ وہ بھی اجلاس میں شریک ہوں انہں نے کہا کہ 1975 میں ارکان اسمبلی کو جو سفری اخراجات دیئے جاتے تھے آج بھی وہی دیئے جارہے ہیں ارکان اسمبلی سے لارجز کے 50 ہزار روپے لیے جارہے ہیں ان معاملات کو بھی دیکھا جائیگا۔ بی این پی کے اختر حسین لانگو نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے والی قراردادوں پرکس حد تک عملدرآمد ہوا ہے اس کا جائزہ لینے کیلئے حکمت عملی وضح کی جائے۔پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بشری رند نے پوائنٹ آف آرڈر پر ارکان اسمبلی سے سیکورٹی گارڈز واپس لینے جانے کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے حکم پر ارکان اسملبی کی سیکورٹی پر تعینات سیکورٹی گارڈز واپس لیے گئے ہیں ارکان اسمبلی کی سیکورٹی کیلئے موثر انتظامات کئے جائیں، جمعیت کے رکن اسمبلی مکھی شام لعل نے کہا کہ وہ لسبیلہ سے کوئٹہ آتے ہیں سیکورٹی گارڈز نہ ہونے سے انہیں بھی خطرات لاحق ہیں، تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے کہا کہ سیکورٹی کچھ لوگوں کی ضرورت ہے،یہ مسئلہ حل ہونا چائیے، انہوں نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے پر اعتراض نہیں کرتے تاہم اگر ججز صاحبان کو سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے تو پھر ارکان اسمبلی کو بھی سیکورٹی دی جائے اگر سیکورٹی نہیں دی جاتی تو پھر ارکان اسمبلی کی سیکورٹی کا ذمہ اٹھایاجائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سینکڑوں لوگ مارے گئے ہیں مگر کسی ایک کا قاتل گرفتار نہیں ہوا ضمنی حقائق کو دیکھتے ہوئے فیصلے کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں قرار دادں کی جمعہ بازار لگائی جاتی ہے ایسے میں صوبے کے مفاد اور عوام سے متعلق پیش ہونے والی قراردادیں بھی اپنی افادیت کھودیتے ہیں ارکان اسمبلی جب بھی کوئی قرار داد لائیں تو صوبے کے مفاد اور عوام سے متعلق لائیں غیر ضروری قرار دادوں کی وجہ سے وفاق ہمیں رسپانس نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے والی قرار دادوں کا فالو اپ جاننے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر جان محمد جمالی نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی گارڈز واپس لینے کا فیصلہ عدالت کا ہے صوبائی حکومت اس سلسلے میں نظر ثانی کی درخواست دائر کریگی۔ بی اے پی کے رکن اسمبلی خلیل جارج نے میٹروپولیٹن کارپرویشن کے اقلیتی ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کرتے ہوئے کہا کہ ایسٹر سے قبل میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ملازمین کو تنخواہیں ادا کی جائیں،جس پر اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر جان محمد جمالی نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپویشن کو فوراً اسمبلی طلب کرلیا۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن لیلہ ترین کی عدم موجودگی میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے متعلق سوالات آئندہ اجلاس تک کیلئے موخر کردیئے گئے۔ اجلاس میں پشتونخوامیپ کے رکن اسملبی نصر اللہ زیرے نے بلوچستان اسملبی کے سامنے ہونے والے بلوچستان یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین کے احتجاج کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیاں ہمارے مستقبل کے معمار تیار کرتی ہیں انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے استدعا کی کہ وہ اجلاس کو ملتوی کرکے احتجاج کرنے والے اساتذہ اور ملازمین سے مذاکرات کریں جس پر ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسیٰ خیل نے صوبائی وزراء نور محمد دمڑ، انجینئر زمرک خان اچکزئی، محمد خان لہڑی، ارکان اسمبلی اصغر ترین، نصراللہ زیرے اور ملک نصیر شاہوانی کو اسمبلی کے سامنے سراپا احتجاج اساتذہ اور ملازمین سے مذاکرات کرنے کی ہدایت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں