تعلیم دشمن قانون کے ذریعے جامعات کی خودمختاری ختم کی گئی، فپواسا

کوئٹہ (انتخاب نیوز) فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیزاکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن،بلوچستان پروفیسر اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن، جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان، اور اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن زرعی یونیورسٹی کالج کوئٹہ کے زہراہتمام بلوچستان صوبائی اسمبلی کے سامنے صوبے کے تمام سرکاری جامعات کیلئے پیش شدہ تعلیم وصوبہ دشمن بل کے خلاف اور جامعہ بلوچستان کے اساتذہ اور ملازمین کو منظور شدہ الاونسزز کی عدم فراہمی کے حوالے سے گذشتہ دنوں مظاہرہ کیا گیا اور آج بروز جمعہ کو بھی جامعہ بلوچستان میں احتجاجی ریلی اور وائس چانسلر سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا ہوا، جس میں درجنوں اساتذہ اور ملازمین نے شرکت کی۔مظاہرین سے فپواسا کے مرکزی نائب صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، بلوچستان پروفیسر اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر حمید خان، ایمپللائز ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے صدر شاہ علی بگٹی، آفیسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نذیر احمد لہڑی، پروفیسر فرید خان، زرعی یونیورسٹی کوئٹہ کے پروفیسر احمد جان، پروفیسر عبدالباقی جتک،ڈاکٹر سعید احمد ایسوٹ، نظام عسکر، علی اکبر اور محمد اکبر زیارتوال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی سرکاری یونیورسٹیز پر تعلیم دشمن ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس کی طرز پر ایکٹ ناقابل قبول ہے، اس تعلیم وصوبہ دشمن ایکٹ کے ذریعے جامعات کی خودمختاری ختم کی گئی کیونکہ جامعات کی پالیسی ساز اداروں خصوصا سنڈیکیٹ، سینیٹ، اکیڈمک کونسل اور فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی سے اساتذہ، آفیسرز، ملازمین اور طلبا وطالبات یہاں تک کہ ممبران صوبائی اسمبلی کی منتخب نمائندگی یکسر ختم کردی گئی ہے، یہ ایک آمرانہ ایکٹ ہے جس میں اظہار رائے اور جمہوری روایات پر مکمل پابندی ہوگی،انہوں نے کہا کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ اور ملازمین گزشتہ ایک مہینے سے اپنے جائز حقوق جس میں 44فیصد ہاوس ریکوزیشن، 25فیصد ڈسپیریٹی اور یوٹیلیٹی و اردلی الاؤنس سے محروم ہیں انہوں نے کہا کہ جامعہ بلوچستان پر غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہمیں پوری تنخواہیں تک نہیں مل رہی۔ دریں اثنا صوبائی وزیر نورمحمد دمڑ، انجینئر زمرک خان اچکزئی، محمد خان لہڑی، نصراللہ خان زیرے اور اصغر خان ترین پر مشتمل نمائندہ وفد نے مظاہرین سے ملنے آئے اور یقین دہانی کرائی کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے جائز مطالبات کے حل کے لیے کمیٹی تشکیل دے کر اقدامات کیے جائیں گے اور صوبے کے جامعات کیلئے صوبائی اسمبلی میں پیش کردہ بل میں جامعات اور کالجز اساتذہ، آفیسرز، ملازمین اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی رائے اس ایکٹ میں مشاورت کے ساتھ شامل کیا جائے گا اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے جائز مطالبات تسلیم کیا جائے گا اور اس حوالے سے صوبائی اسمبلی میں وزرا اور ممبران صوبائی اسمبلی کی بنائی ہوئی کمیٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نمائندگان کی جلد وزیر اعلی بلوچستان سے تفصیلی ملاقات کرائی جائے گی اور جائز مطالبات تسلیم کیا جائے گا، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا کہ بروز سوموار 18اپریل کو بھی جامعہ بلوچستان میں احتجاجی ریلی اور جلسہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں