نوکنڈ ی میں سیکورٹی فورسز کی بے گناہ افراد پر فائرنگ قابل مذمت ہے،ہاشم نوتیزئی
نوکنڈی (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی ممبر رکن قومی اسمبلی رخشان ڈویژن حاجی میر محمد ہاشم نوتیزئی نےکہاکہ ڈسٹرکٹ چاغی کے سرحدی علاقے میں پیٹ پالنے کے لیے روزگار کے غرض سے نکالنے والے ایک نوجوان پر سیکورٹی فورس کے جانب سے فائرنگ کرکے بے دردی سے جا ں بحق کیاگیا جبکہ بعد میں پرامن احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کرکے لوگوں کو شدید زخمی کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سرحدی علاقوں میں نہ کوئی فیکٹری ہے نہ کوئی ایسا کام جس سے لوگ اپنے دو وقت کی روٹی پیدا کرنے کے لیے آسانی سے کچھ کام کریں صرف ایک سایندک پروجیکٹ ہے جس میں پورے پاکستان چائنیز سمیت 1200ملازمین برسرروزگار ہیں جو اتنے بڑے سرحدی علاقے کے لیے نہ کافی ہے، باقی لوگوں کا گزر بسر انہی باڈری کاروبار سے منسلک ہے جو کہ لوگ اپنے دو وقت کے روٹی کے لیے اپنے زندگی دھاو پر لگا کر مشکل و کٹھن راستوں سے اشیا خوردونوش،تیل اور زروریات زندگی کے سامان لاتے و لے جاتے ہیں، اگر ان پر ہمارے زمدار سیکورٹی ادارے اسطرح زمین تنگ کرکے لوگوں کو جان سے مارنا شروع کرتے ہیں، تو یہ لوگ آخر کہاں جائیں پھر ان کو کوئی باعزت روزگار دیا جائے، کوئی نہیں چاہتا کہ ہو خوار ہوں، انہوں نے کہا کہ ایک تو ٹوکن سسٹم سے ہمارے لوگوں کے کاروبار کو محدود کردیا ہے انہوں نے کہا کہ ٹوکن سسٹم کو پوری ختم کرکے کاروبار کو مکمل آزاد کیا جائے، انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف سے پر زور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کا صاف شفاف تحقیقات کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دے کر مکمل تحقیقات کیا جائے پر امن علاقے میں حالات کو خراب کی کوشش نہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے لوگ پرامن اور محب وطن ہیں ان کو تنگ کرکے اچھے ماحول کو خراب نہ کریں۔


