مخصوص عناصر کو نوازنے کےلئے حلقہ بندیاں کی گئیں، میر کبیر محمد شہی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر و سابق سینیٹر میر کبیر جان محمد شہی کی قیادت پارٹی وفد کا صوبائی الیکشن کمشنر فیاض حسین مراد سے ملاقات کی ۔ملاقات میں پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن و ضلع صدر کوئٹہ حاجی عطا محمد بنگلزئی، مرکزی لائرز سیکرٹری راحب بلیدی ایڈووکیٹ، صوبائی ترجمان علی احمد لانگو، صوبائی سوشل میڈیا سیکرٹری سعد دہوار، ضلع جنرل سیکرٹری کوئٹہ ریاض زہری، یونس بلوچ، ملک حفیظ بنگلزئی، خدائے رحیم شریک تھے۔نیشنل پارٹی کے وفد نے صوبائی الیکشن کمشنر کو کوئٹہ کی حلقہ بندیوں میں سنگین بے ضاطگیوں کی متعلق نیشنل پارٹی کے تحفظات و خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی جمہوریت کے استحکام کیلئے شفاف انتخابات کو ضروری سمجھتی ہے۔اور شفاف انتخابات کا مرحلہ حلقہ بندیوں سے شروع ہوتے ہوئے انتخابات کے انعقاد تک کا ہوتا ہے۔اس لیے حلقہ بندیوں کو عوام کی رائے کے مطابق ہونا لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ حلقہ بندیوں کے پہلے مرحلے میں کوئٹہ میڑو پولیٹن کو 61 وارڈز پر تشکیل دیا گیا تھا۔ مخصوص عناصر کو نوازنے کےلئے حلقہ بندیوں کو ری شیڈول کیا گیا اور میڑو پولیٹن کو 61 سے 84 وارڈز تک بڑھایا گیا اور ستم یہ کہا گیا کہ وہ تمام حلقے صرف اسی مخصوص طبقے کے علاقوں پر مشتمل ہے۔جو کہ منفی اقدام ہے۔جس کو نیشنل پارٹی مکمل طور مسترد کرتی ہے۔اور حلقہ بندیوں کی بے ضباطگیوں کے دور کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔نیشنل پارٹی کے وفد نے کہا کہ ایک حلقے کے انتخابی بک کو دوسرے حلقے میں شامل کیا گیا ہے۔جس سے حلقے غیر فطری بن گئے ہیں۔ان کو دوبارہ ان کے حلقوں میں شامل کیا جائے تاکہ کسی بھی ووٹر اور علاقے کی حق تلفی نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ آئین میں انتخابات سے قبل ڈسپلے سینٹر کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے تاکہ ووٹرز اپنا اندراج اپنے علاقے میں کرسکے۔اس لیے تمام کوئٹہ میں انتخابات سے قبل ڈسپلے سینٹر کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔نیشنل پارٹی کے وفد نے کہا کہ بلوچستان کے دیگر اضلاع میں حکومتی اراکین عوام کو سرکاری مراعات و مفادات اور نوکریوں و پوسٹنگ کا لالچ دے رہے ہیں۔جو انتخابات کی شفافیت پر قدغن لگانے کے مکمل مترادف ہے۔اس موقع پر صوبائی الیکشن کمشنر نے نیشنل پارٹی کے وفد کو تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرادی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں