گوادر ٹیکس فری زون بنے گا، 12 لاکھ ہنر مند افرادی قوت کو روزگار ملے گا، رپورٹ

اسلام آباد (انتخاب نیوز) ضلع گوادر ٹیکس فری زون بنے گا،12لاکھ ہنر مند افرادی قوت کو روزگار اور 30 ارب ڈالر سے زیادہ آمدن، گوادر 21ویں صدی کی میری ٹائم سلک روڈ ،گوادر فری زون فیز ٹو میںسرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس رعایت اور مراعات۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے ضلع گوادر کو گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے تحت ٹیکس فری درجہ ملنے کا امکان ہے۔ بلوچستان حکومت نے 2019 میں گوادر پورٹ سٹی ماسٹر پلان 2050 کی منظوری دی تھی جس کا باقاعدہ اعلان فروری 2020 میں کیا گیا تھا۔ پلان کے گورننس ماڈل کی تفصیلات سے آگاہ کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے متعدداجلاس منعقد کیے گئے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت تزویراتی مقام پر واقع گوادر کو ایک نئے ترقی یافتہ بندرگاہی شہر میں تبدیل کر دیا گیا ہے جو علاقائی رابطے کے مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اپنی قدرتی گہری سمندری بندرگاہ کے ساتھ گوادر 21ویں صدی کی میری ٹائم سلک روڈ کے طور پر ایک اہم کردار ادا کرے گا، جس سے نہ صرف چین اور پاکستان بلکہ وسطی ایشیا، مشرقی ایشیا، روس اور وسیع تر یوریشین خطہ بھی مستفید ہو گا۔ماسٹر پلان کے تحت گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی جی ڈی اے ٹیکس فری اسٹیٹس کے ساتھ ایک خصوصی اقتصادی ضلع بنانے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔ گوادر کے پرانے ماسٹر پلان کے تحت 24 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جو 2004 سے 2014 تک چلنا تھا۔نئے ماسٹر پلان کے مطابق ساحلی شہر 12لاکھ ہنر مند افرادی قوت پیدا کرے گا اور 30 ارب ڈالر سے زیادہ کی اقتصادی پیداوار حاصل کرے گا۔ بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا کام پہلے ہی چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی کر چکی ہے۔گوادر فری زون فیز ٹو جس میں مینوفیکچرنگ اور سروس انڈسٹریز ہوں گی کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے گوادر ٹیکس فری زون رولز، 2021کے تحت ٹیکس میں رعایتیں اور دیگر مراعات حاصل ہیں۔ایف بی آر کے ڈرافٹ رولز کے مطابق سرمایہ کارفری زون کے لیے امپورٹ کیے گئے سامان کے حوالے سے گڈز ڈیکلریشن اور دیگر دستاویزات بیورو کو پیش کریں گے۔ کسٹمز ایکٹ اور گوادر پورٹ اتھارٹی آرڈیننس 2002 کے تحت دی گئی چھوٹ کا اطلاق صرف فری زون کی حدود میں استعمال ہونے والے پلانٹ، مشینری، آلات اوردرآمدی سامان پر ہوتا ہے۔گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سپیشل اکنامک ڈسٹرکٹ کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں کو وہی فوائد اور مراعات فراہم کرنا ہے جو ملک بھر کے خصوصی اقتصادی زونز میں دستیاب ہیں۔ریگولیٹری فریم ورک کے تحت، ڈیوٹی ٹیکس فری کاریں کنسشن ہولڈر کے ذریعے درآمد کی جا سکتی ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں