نوکنڈی میں سیکورٹی اہلکار کی فائرنگ سے ڈرائیور کی ہلاکت سازش ہے، بی ایس او

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بی ایس او ایکس سینٹرل کیڈر فورم نے اپنے جاری پریس ریلیز میں کہا ہے کہ نوکنڈی ضلع چاغی کے دلخراش واقعہ نے پورے بلوچستان کو شدید صدمے اور غم میں مبتلا کردیا ہے، گزشتہ روز نوکنڈی میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں بلوچ ڈرائیور کی ہلاکت اور اس المناک واقعہ کیخلاف پرامن احتجاج کرنے والوں پر حملہ کرکے درجنوں افراد کو زخمی کرنا کھلی دہشت گردی ہے جوکہ ناقابل برداشت ہے، یہاں تک کہ چاغی سے منسلک علاقہ پاک افغان بارڈر پر سیکورٹی فورسز نے بہت سی گاڑیوں کو ناکارہ کرکے ڈرائیوروں کو بے یار مددگار چھوڑ دیا ہے، جن میں سے کچھ کی بھوک و پیاس کی وجہ سے موت واقع ہوئی ہے جوکہ ظلم و ناانصافی کی حد ہے۔ بی ایس او ایکس کیڈر اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ سرزمین اپنی معاشی، دفاعی، معدنی، سمندری اور قدرتی بندرگاہوں، طویل ساحل، گیارہ ہزار سالہ تہذیب، سینٹرل ایشاء وسط ایشیا کے سنگم پر واقع قدیم زبان و ثقافت اور قیمتی وسائل و قیمتی زمین کے مالک ہونے کے باوجود بلوچ قوم زندگی کے تمام بنیادی و اہم سہولیات اور روزگار سے یکسر محروم ہیں۔ ریاست کی ذمے داری ہی کہ وہ عوام کو روزگار دیں، انہیں بنیادی سہولیات فرائم کریں جو کہ ان کا حق ہے لیکن بلوچستان میں سب کچھ اس کے برعکس ہورہا ہے روزگار کے حصول کے لئے سرگرداں بلوچ کو موت ملتی آرہی ہے، ایک سوچھی سمجھی سازش کے تحت بلوچ قوم کو معاشی طور کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بلوچستان کے اکثریتی عوام کا روزگار بارڈر سے منسلک ہے لیکن آئے روز مختلف حیلہ بہانوں سے بارڈر پر باڑ لگاکر یہاں کے عوام کو نان شبینہ کا محتاج بنایا جارہا ہے، یہ استحصالی پالیسیاں ناقابل برداشت ہے اسلام آباد کی ان محلاتی سازشوں کی وجہ سے بلوچستان کے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں ان کی غلط و بلوچ دشمن پالیسیوں کی وجہ سے بلوچ عوام کا اعتماد ان سے اٹھ چکا ہے یہی وجہ ہی کہ مزاحمت جنم لے رہا ہے جوکہ کسی کے لئے نیک شگون نہیں موجودہ وفاقی حکومت بلوچ و بلوچستان کے مسائل کا ادارک کرتے ہوئے سابقہ استحصالی پالیسیوں کو دوام نہ بخشیں نہیں تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے ہمارہ مطالبہ ہے کہ سیکورٹی فورسز جو مست گھوڑے کی طرح بلوچوں کو روندتے جارہی ہے اس پر لگام دیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فرائم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں