کوئٹہ، حکومتی وفد کی اپوزیشن رہنماوں سے ملاقات، وزیراعلیٰ کی واپسی تک مدارس کے معاملے پر احتجاج موخر کرنے کی تجویز پیش

کوئٹہ(این این آئی) صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو کی قیادت میں حکومتی وفد نے جمعہ کو بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن رہنماوں سے ملاقات کی ملاقات میں جمعیت علماءاسلام کے صوبائی امیرسینیٹر مولانا عبدالواسع ،بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، چیئرمین پی اے سی اصغرترین، اپوزیشن رکن اسمبلی سید ظفر آغااور رکن قومی اسمبلی عثمان بادینی سمیت دیگر رہنماءشامل تھے جبکہ حکومتیوفد میں صوبائی وزراءحاجی علی مدد جتک ، میر برکت رند شامل تھی۔ملاقات کے دوران مدراس رجسٹریشن سمیت سیاسی امور پرتفصیلہ تبادلہ خیال کیا گیاحکومتی وفد اور اپوزیشن کا آئندہ بھی بات چیت جاری رکھنے پر اتفا ق کیا گیاصوبائی وزیر داخلہ میرضیاءاللہ لانگو نے کہا کہ مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیںجہاں سے علماءاور حفاظ فارغ التحصیل ہوتے ہیں،تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو دینی مدارس نے ہمیشہ مسلم امہ کو جوڑے رکھا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان تمام قوموں اور مختلف مذاہب کا گل دستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالواسع ایک زیرک اور قابل احترام سیاستدان ہے۔صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے کہاکہ مدارس کے حوالے سے حکومتی موقف سمجھنے کی ضرورت ہے،حکومت نے ہمیشہ اپوزیشن سمیت تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کو ترجیح دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس حکومتی نمائندوں کا آنا حکومتی سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت بلوچستان اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک برقرار ہے حکومتی وفد نے وزیراعلیٰ بلوچستان میررفراز بگٹی کی آمد تک احتجاج موخر کرنے کی تجویز پیش کی۔ حکومتی ذرائع نے مطابق حکومتی وفد نے بتایا کہ وزیراعلی بلوچستان صوبے سے باہر ہے،اپوزیشن کا پیغام پہنچادیاگیا ہے،وزیراعلی بلوچستان جمعیت علماء اسلام کے اراکین اسمبلی اور قائدین سے ملاقات کریں گے۔جمعیت علماءاسلام کے ذرائع نے بتایا کہ :قومی اسمبلی میں مدراس سے متعلق بل منظور ہوچکا ہےلیکن وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ بل پر غور کرینگے ۔ذرائع نے مزید کہا کہ تمام صوبوں نے بل پر خاموشی اختیار کی سب سے پہلے بلوچستان حکومت نے عمل درآمد کیا ،بلوچستان حکومت 5مئی کو ہونے والے اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں مدراس کا بل شامل کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں