بلوچستان اسمبلی اجلاس، ہسپتالوں کے حوالے سے مسودہ قانون منظور

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی نے پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر پر کئے جا نے والے تشددکے واقعہ کی مذمتی قرار داد منظور کرتے ہوئے اسے پار لیما نی سیاست کا بد ترین دن قرار دیدیا جبکہ نوکنڈی اور چاغی میں بارڈر ٹریڈ کرنے والے ڈرائیورز کیساتھ پیش آنیوالے واقعہ کی رپورٹ طلب، دو مسودات قوانین منظور کرلئے گئے ۔بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کو ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے اسپیکر میر جان محمد جمالی کی زیرصدارت شروع ہوا ، اجلاس میں پینل آف چیئرمین کے رکن قادر علی نائل نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے واقعہ اور ڈپٹی اسپیکر کو تشدد کا نشا نہ بنانے ایوان کے تقدس کی دھیجیاں اڑنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی سیاست میں اس کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ ہی بدتہذیبی ہے،اجلاس میں پشتونخوامیپ کے نصراللہ زیرے نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے واقعہ سے متعلق قرار داد پیش کرنے کیلئے ایوان میں تحریک پیش کی ایوان کی را ئے سے پینل آف چیئرمین کے رکن قادر علی نائل نے قرار داد پیش کرنے کی رولنگ دی جس پر نصراللہ زیرے نے ایوان کی مشترکہ مذمتی قرار داد پیش کی ، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر صحت کی عدم موجودگی میں صوبائی وزیر آپباشی محمد خان لہڑی نے بی بی عصمت ملک میموریل اسپتال خدابادان پنجگور ، شہید نوابزادہ سکندر جان زہری میموریل اسپتال زہری اور صوبائی وزیر تعلیم کی عدم موجودگی میں یونیورسٹی آف مکران کے مسودہ قوانین پیش کئے جن کی ایوان نے متفقہ طور پر منظور دی۔ اجلاس میں بی این پی کے میر اکبر مینگل عوامی مفاد کے نکتہ پر اظہار خیال کرتے نوکنڈی میں پیش آنے والے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں ہی اس ایوان سے ہم سرحدی تجارت کے حوالے سے قرارداد منظور کراچکے ہیں اور گزشتہ روز نوکنڈی میں انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرائی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔ سابق وزیراعلیٰ میر جام کمال خان نے کہا کہ نوکنڈی واقعہ پر جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے عوام حکومت کی طرف دیکھتے ہیں اور جب انہیں انصاف نہیں ملتا تو وہ امن وامان کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جلد انتخابات کرانے کا حکم دیا مگر تاریخ کا تعین نہیں کیا صوبائی حکومت کو سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دینی چاہیے ایک جانب ملک میں تیزی سے سیاسی صورتحال تبدیل ہوئی ہے پھر صوبے کے اپنے حالات ہیں انہیں مدنظر رکھ کر اگر انتخابات جولائی میں کرائے جائیں تو کوئی قباحت نہیں انہوں نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے واقعہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں احتجاج بھی ہوتا ہے چئیر کے سامنے دھرنا بھی دیا جاتا ہے لیکن جس طرح ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسملبی پر حملہ کیا گیا وہ قابل مذمت ہے ملک اور صوبے کی سیاست میں سنجیدگی سے چیزوں کو ا?گے لیکر چلیں گے تو صورتحال بہتر ہوگئی۔ صوبائی وزیر زراعت میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ نوکنڈی وہ علاقہ ہے جہاں ریکودک واقعہ ہے جس کی عالمی سطح پر اہمیت اور ہماری ملک کی معیثیت میں انتہائی اہمیت ہے لیکن اس علاقہ کے عوام کی دو وقت کی روٹی کمانے کیلئے تذلیل اور شہید کرنا افسوس کی بات ہے سیکورٹی فورسز عوام کی حفاظت کیلئے ہیں اور ہر حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کے مسائل حل کرے لیکن تپتے ہوئے ریگستان میں جہاں دو سو کلومیٹر تک نہ پانی ہو نہ سایہ وہاں گاڑیوں کی چابیاں لیکر لوگوں کو واپس جانے کو کہا جائے ، وائرل ہونے والی ویڈیو میں چند نوجوانوں کی لاشیں پڑی نظر ا?تی ہیں یہ حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ان کے لواحقین اس انتظار میں تھے کہ ان کے پیارے کچھ کماکر لائیں گے جس سے سحر و افطار کا انتظام کیا جائے گا ہم سب کا احترام کرتے ہیں اور پورے ادارے کی بات نہیں کرتے لیکن اگر کسی اہلکار نے ذاتی طور پر یہ اقدام کیا تو اس کا تعین ہونا چائیے، عوام پوچھتے ہیں کہ ایسے واقعات واگہ بارڈر پر کیوں نہیں ہوتے ہم استحصال سے پاک معاشرے اور انصاف چاہتے ہیں ایسے حالات پیدا نہ ہوں جس سے انارکی پھیلے انہوں نے بھی واقعہ کی تحقیقات ذمہ داروں کیخلاف اور زخمیوں کا سرکاری سطح پر علاج کرنے کا مطالبہ کیا۔ صوبائی وزیر انجینئر زمرک خان نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری عوام کو تحفظ فراہم کرنا اور امن وامان قائم کرنا ہوتا ہے نوکنڈی واقعہ کی انکوائری کراکے رپورٹ ایوان میں لائی جائے انہوں نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی داخل کرانے کیلئے کم وقت دئیے جانے پر کہا کہ کاغذات جمع کرانے کیلئے چار دن دیئے گئے مگر اب تک ہمیں ووٹر لسٹیں نہیں ملی ہیں ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں مگر سپریم کورٹ نے جلد از جلد انتخابات کرانے کا حکم دیا تاریخ نہیں دی الیکشن کے تمام تر انتظامات الیکشن کمیشن نے کرنے ہیں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ صوبے کے گرم علاقوں میں ایک جانب موسم گرم ہوگیا ہے دوسری جانب گندم کی کٹائی کا موسم ہے اور صوبائی حکومت نے بجٹ بھی تیار کرنا ہے لہذا بلدیاتی انتخابات ایک ماہ کیلئے موخر کئے جائیں۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ نوکنڈی میں رمضان المبارک میں واقعہ پیش آیا اور وہ بھی اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں ہوا یہ ایسا واقعہ ہے جسے بیان کرتے ہوئے سر شرم سے جھک جاتا ہے بلوچستان میں گزشتہ کئی سالوں سے بارشیں نہ ہونے اور پانی کی قلت کے باعث زرعی شعبہ ختم ہوچکاہے روزگار کے ذرائع نہیں اب بارڈر ٹریڈ بند کرکے لاکھوں لوگوں کو نان شبینہ سے محروم کردیا گیا ہے اور نوکنڈی میں جو واقعہ ہوا وہ افسوسناک ہے اس کی جوڈیشل انکوائری کرائی اور زخمیوں کا سرکاری سطح پر علاج کرایا جائے انہوں نے پنجاب اسملبی میں پیش آنے والے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج دن بھر پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ ہوتا رہا ڈپٹی اسپیکر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا مگر پولیس نے مداخلت نہیں کی جبکہ اس کے برعکس جب بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن نے احتجاج کیا تو پوری اسملبی میں فورسز موجود تھی ملک کے دوسرے صوبوں کیلئے قانون کچھ اور بلوچستان کیلئے کچھ اور ہوتا ہے ہم بھی اس ملک کے شہری ہیں ہمارے ساتھ بھی انصاف کیا جائے انہوں نے کہا کہ ناعاقبت اندیش لوگوں کی پالیسیوں کی بدولت پہلے قومی اسملبی اور پھر پنجاب اسملبی کا واقعہ پیش آیا۔ جمعیت علماءاسلام کے سید عزیز اللہ آغا نے نوکنڈی واقعہ کو انتہائی دلخراش قرار دیتے ہوئے کہاکہ بلوچستان کے عوام کیساتھ جو رویہ روراکھا گیا ہے وہ افسوس ناک ہے بلوچستان کے عوام جب اپنے حق اور بارڈر ٹریڈ کی بات کرتے ہیں تو ان کیساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے ہم واقعہ کی مذمت کیساتھ متاثرہ خاندانوں سے ہمدری بھی کرتے ہیں انہوں نے بھی واقعہ کی جوڈیشل تحقیقات اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔بی این پی کے احمد نواز بلوچ نے نوکنڈی میں سرحد پر پیش آنے والے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ لوگ جو اپنے بچوں کیلئے روزگار کمانے کی کوشش کررہے تھے فورسز کی فائرنگ سے حمید بلوچ نامی جوان شہید جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے پورے علاقے میں روزگار کے کوئی ذرائع نہیں یہی وجہ ہے کہ لوگ بارڈر ٹریڈ کا رخ کرتے ہیں گزشتہ روز دو سے ڈھائی سو گاڑیاں قبضہ میں لیکر گاڑیوں کے سوار لوگوں کو پیدل جانے پر مجبور کیا گیا شدید گرمی تپتی دھوپ اور ریگستان میں پیدل چلتے ہوئے کچھ جوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ، انہوں نے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بی این پی کی شکیلہ نوید دہوار نے بھی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی کاروبار کرنے والوں سے ان کی گاڑی چھین کر انہیں شدید گرمی میں پیدل واپس جانے پر مجبور کیا گیا احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کی گئی انہوں نے مطالبہ کیا کہ جوڈیشل انکوائری کرائی اور تمام زخمیوں کا سرکاری سطح پر علاج کرایا اور ان کے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔پشتونخوامیپ کے نصراللہ زیرے نے نوکنڈی واقعہ کو انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس واقعہ سے انسانیت دہل کر رہ گئی ہے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے بارڈر ٹریڈ کرنے والوں کیساتھ ایسا سلوک کیا گیا اس حوالے سے دو روز قبل ہی اس ایوان میں قرارداد منظور ہوئی تھی انہوں نے کہا کہ ماضی میں وسیم سجاد اور مشاہد حسین سید کی کمیٹی نے بلوچستان کا دورہ کرکے صرف منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ کو قابل گرفت اور باقی تمام اشیاءلانے کو بارڈر ٹریڈ قرار دیا تھا انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کے واقعے میں تین نوجوان صحرا میں دم توڑ گئے کیا اسلام اور ہمارے آئین میں اس کی اجازت ہے واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جائے ملک کا ا?ئین شہریوں کو زندگی کے تحفظ کا ضمانت دیتا ہے لیکن نوکنڈی واقعہ میں جو لوگ اپنی جانوں سے گئے بتایا جائے کہ اس واقعہ کے ذمہ داروں کیخلا ف کیا کاروائی کی جائے گی بلوچ اور پشتون اس ملک کا حصہ ہیں انہیں بھی جینے اور کاروبار کرنے کا حق ہے انہوں نے جوڈیشل انکوائری کرنے اور وفاقی و صوبائی حکومت سے اپنا موقف پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔جمعیت علماءاسلام کے اصغر ترین نے نوکنڈی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے جوڈیشل انکوائری اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کیلئے تمام انتظامات الیکشن کمیشن نے کرنے ہیں مگر اب تک بلاک کوڈ مکمل اور انتخابی فہرستیں درست نہیں بلوچستان اسمبلی انتخابات موخر کرنے سے متعلق قرار داد منظور اور وزیراعلیٰ چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات بھی کر چکے ہیں انتخابات کچھ عرصہ کیلئے موخر کئے جائین انہوں نے پشین میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کی مذمت کرتے ہوئے بجلی کی فراہمی کا مطالبہ کیا اور پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے واقعہ کو افسوسناک قرار دیا۔اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے پینل ا?ف چیئرمین کے رکن قادرعلی نائل سے جوڈیشل کمیشن کے قیام کیلئے رولنگ دینے پر اسرار کرتے ہوئے کہاکہ چیئر کی جانب سے رولنگ آنی چائیے جس پر پینل آف چیئرمین کے رکن قادر علی نائل نے کہا کہ آج کے اجلا س میں وزیر داخلہ اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کو یہاں ہونا چائیے تھا انہوں نے ہدایت کی کہ بلوچستان اسمبلی کے منگل کو ہونے والے اجلا س میں وزیرداخلہ نوکنڈی واقعہ کے بابت رپورٹ پیش کریں تاہم موقع پر اپوزیشن ارکان مسلسل جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے رہے۔ بعد ازاں پینل آف چیئرمین کے رکن قادرعلی نائل اجلاس منگل 19 اپریل دن اڑھائی بجے تک ملتوی کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں