بارڈر پر بلوچ ڈرائیورں کے ساتھ غیرانسانی رویہ ترک کیا جائے،بی ایس او
کوئٹہ:بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں گزشتہ دنوں نوکنڈی میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے بلوچ ڈرائیوروں پر تشدد اور فائرنگ سے شھید کرنے کے واقعے پر سخت رد عمل دیتے ہوئے اسے انتہائی غیرانسانی عمل اور انسانیت سوز قرار دے دیا ہے۔ترجمان بی ایس او نے کہا ہے کہ بلوچستان کے سیاسی ورکروں سے لیکر مزدوروں تک تمام طبقہ فکر کے لوگ بلاتفریق ریاستی پالیسوں کے سائے تلے جبر مسلسل کی زندگی گزار رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بیروزگاری اور معاشی تنگدستی کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کا گزر بسر بارڈر سے منسلک کاروبار سے ہے لیکن وہاں پر بھی سیکورٹی ادارے لوگوں کی عزت نفس کو مجروع کرتے ہیں۔ بارڈر پر کاروبار کرنے والے مزدوروں اور ڈرائیوروں پر تشدد اور ان پر فائرنگ روز کا معمول بن گیا ہے۔ گزشتہ روز ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں سیکورٹی فورسز نے بلوچ ڈرائیوروں پر اندھا دھند فائرنگ کیا جس سے ایک ڈرائیور حمداللہ بلوچ شھید ہوگیا۔ اس واقعے کے خلاف وہاں کے عوام اور دیگر ڈرائیورز نے مل کر پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا جس پر سیکورٹی فورسز نے پھر سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک مظاہرین شھید اور کئی شدید زخمی ہوگئے جبکہ فورسز نے تقریباً دو سو سے زائد ڈرائیوروں سے انکے گاڈیاں چھین کر انہیں ناکارہ کیا اور ڈرائیورز کو پیدل سفر پر مجبور کردیا جس کی وجہ سے تین بلوچ ڈرائیور سخت موسم اور پیاس سے جان کی بازی ہار گئے۔
ترجمان بی ایس او نے کہا ہے کہ اس طرح کے انسانیت سوز واقعات کا رونما ہونا نہ صرف بلوچ نوجوانوں کیلئے باعث مایوسی ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بی ایس او بلوچ قوم کے سیاسی اور معاشی حقوق کیلئے ہمیشہ سے ایک واضح موقف رکھتی ہے۔ بیان کے آخر میں انہوں نے کہا ہے کہ نوکنڈی کے واقع پر ایک اعلیٰ سطحی جوڈیشل کمیشن بناکر ذمہ داران کو سخت سے سخت سزا دی جائے اور بارڈر پر بلوچ ڈرائیورں کے ساتھ غیرانسانی رویہ ترک کیا جائے۔


