نہتے مظاہرین پر فائرنگ ظالمانہ ہے، نفرتوں میں اضافہ ہوگا ، ہاشم نوتیزئی
اسلام آباد (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی میر محمدہاشم نوتیزئی نے چاغی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ عمل ناقابل قبول اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہتے مظاہرین پر فائرنگ ظالمانہ ہے جس کی وجہ سے نفرتوں میں اضافہ ہوگا اور لوگ مزید مشتعل ہوں گے۔ انھوں نے ان واقعات کے تناظر میں صوبائی حکومت کی جانب سے ڈپٹی کمشنر چاغی اور اسسٹنٹ کمشنرز کے تبادلوں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اصل ذمہ داروں کی بجائے ضلعی انتظامیہ کے افسران کا تبادلہ کیا گیا جب کہ جو ذمہ دار ہیں ان کے متعلق کوئی بات نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے نوکنڈی میں بھی مظاہرین پر اسی طرح کی فائرنگ کی گئی گی جبکہ اس سے قبل حمید بلوچ نامی ڈرائیور کا قتل کیا گیا یہ سارے واقعات چاغی کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی سازش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے شروع میں مطالبہ کیا تھا کہ اس سلسلے میں ایک انکوائری کمیٹی بنائی جائے اور داروں کا تعین کر کے انہیں انہیں سزا دی جائے لیکن افسوس کہ نوکنڈی واقعے کے بعد بھی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا یا جس کی وجہ سے چاغی میں یہ واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ چاغی واقعے کے خلاف آج قومی اسمبلی میں نہ صرف پارٹی قائد سرداراخترمینگل بلکہ ایم این اے آغا حسن بلوچ نے پارلیمنٹ کے فلور پر آواز بلند کرکے سیکیورٹی فورسز کے فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مجھ سمیت بی این پی کے اراکین قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی سے واک آو¿ٹ بھی کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم ہر مشکل وقت میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور بلوچستان کے لوگوں پر ہر ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔


