اٹھارویں آئینی ترمیم پاکستان کی مضبوطی کی ضامن ہے، زمرک خان
کوئٹہ (انتخاب نیوز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و صوبائی وزیر خوراک انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہاہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے اکابرین کی سیاست سے ملک میں جمہوری نظام مضبوط ہے ہم پشتونوں کے حقوق کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے،اٹھارویں آئینی ترمیم پاکستان کی مضبوطی کا ضامن ہے۔ اسی آئینی ترمیم کی بدولت این ایف سی ایوارڈ اور قومی پیداواری آمدن کی صوبوں میں تقسیم کا فارمولہ طے ہوا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ19اپریل2010پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے۔ آج ہی کے دن 1973کے آئین میں اٹھارویں آئینی ترمیم ممکن ہوئی۔ اسی ترمیم کی بدولت پاکستان کے صوبوں کو مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات آئینی طور پر منتقل ہوئے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم پاکستان کی مضبوطی کا ضامن ہے۔ اسی اٹھارہویں آئینی ترمیم کی بدولت این ایف سی ایوارڈ اور قومی پیداواری آمدن کی صوبوں میں تقسیم کا فارمولہ طے ہوا۔ 2010تک ہمارا صوبہ شناخت سے محروم تھا، اسی ترمیم کی وجہ سے ہمارے صوبے کو شناخت اور خیبر پختونخوا کا نام ملا۔ دنیا میں ان ممالک نے ترقی کی ہے جنہوں نے اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کئے ہوں، آئینی طور پر صوبوں کو اٹھارویں آئینی ترمیم کی بدولت اختیارت منتقل ہوگئے ہیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا ایک مشترکہ اقدام ہے اور اس کو عملی شکل دینے میں کردار ادا کرنے والے تمام سیاسی جماعتوں اور باالخصوص ملی مشر اسفندیار ولی خان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ19اپریل کا دن واقعی ایک تاریخی دن ہے جب اس ملک میں 63سال بعد پشتونوں کو اپنی شناخت اور ہمارے وسائل پر ہمارا حق ملا۔ جب باچاخان اور ولی خان کے خواب ملی مشر اسفندیارولی خان کی قیادت میں حقیقت بن گئے۔ مارشل لا کا راستہ بند کیا گیا، آئین کی بالادستی قائم ہوئی۔ 18ویں آئینی ترمیم میں تمام سیاسی جماعتوں نے کردار ادا کیا۔


