فرانس صدارتی انتخابات میں امیدوار اسلامو فوبیا کو بطور مہم استعمال کرنے لگے

پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک) فرانس کے صدارتی انتخابات میں امیدوار اسلامو فوبیا کو بطور مہم استعمال کرنے لگے ‘ خاتون صدارتی امیدوار نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اسلامسٹ نظریئے کے خلاف قانون سازی کی ضرورت ہے‘اگر کامیاب ہو گئی تو فرانس میں اسکارف پر پابندی عائد کر دیں گی جبکہ امینوئل میکخوان نے کہا ہے کہ اگر آپ ایسا اقدام اٹھایا تو یہ فرانس کو خانہ جنگی میں دھکیلنے کا سبب بنے گا‘’فرانس روشن خیالی اور عالمگیریت کا گھر ہے، یہ عوامی جگہوں پر مذہبی علامتوں کے استعمال پر پابندی لگانے والا دنیا کا پہلا ملک ہو گا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس کے صدارتی انتخابات جیتنے کے لئے امینوئل میکخوان کی حریف مسلمان دشمنی پر اتر آئیں۔رپورٹ کے مطابق دونوں صدارتی امیدوار ایک مباحثے کے دوران آمنے سامنے ہوئے جہاں لے پین نے تصدیق کی کہ وہ اسکارف کے بارے میں اپنی سوچ پر قائم ہیں، انہوں نے اسکارف کو ’اسلام پسندوں کی وردی‘ کہا اور ساتھ وضاحت کی کہ’ وہ مذہب اسلام کے خلاف نہیں ہیں۔جواب میں میکخوان نے کہا کہ اگر آپ ایسا اقدام اٹھایا تو یہ فرانس کو خانہ جنگی میں دھکیلنے کا سبب بنے گا، انہوں نے کہا کہ ’فرانس روشن خیالی اور عالمگیریت کا گھر ہے، یہ عوامی جگہوں پر مذہبی علامتوں کے استعمال پر پابندی لگانے والا دنیا کا پہلا ملک ہو گا، جس چیز کی تجویز آپ دے رہی ہیں، وہ معقول نہیں ہے۔میکخوان نے مزید کہا کہ آپ کیا تجویز دیتی ہیں کہ ہیڈ اسکارف یا کسی اور مذہبی علامت کے تعاقب کے لیے کتنے پولیس اہلکار درکار ہوں گے؟، جس پر لے پین نے کہا کہ ’میرا خیال ہے ہمیں اسلامسٹ نظریئے کے خلاف قانون سازی کی ضرورت ہے، میں مذہب اسلام کے خلاف نہیں جس کے پیروکار فرانس میں موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں