سلسلہ آہینہ کے شاہی طور اطوار

تحریر: انورساجدی
ہندوستان پر کئی خاندانوں نے حکومت کی ہے جیسے کہ خاندان مغلیہ اور خاندان غلامان 1990 کی دہائی میں جب میاں نواز شریف پہلی بار وزیراعظم بنے تھے تو انہیں خاندان
آہینہ
کے حکمران کا نام دیا گیا تھا وجہ یہ تھی کہ ان کا خاندانی پیشہ لو ہے کا کاروبار تھا ان کے والد نے 1960 کی دہائی میں لاہور میں اتفاق فاؤنڈری کی بنیاد رکھی تھی غالباً ان کا اسٹیل یعنی لوہے کا کاروبار آج بھی جاری ہے۔
1990،1997 اور 2013 میں میاں نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم مقرر ہوئے جبکہ ان کے چھوٹے بھائی محمد شہباز شریف پہلی مرتبہ وزیراعظم مقرر ہوئے ہیں لیکن وہ سلسلہ آہینہ کے چوتھے وزیراعظم ہیں جب بڑے میاں وزیراعظم تھے تو چھوٹے میاں پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے اس مرتبہ یہ سلسلہ اور قریب آگیا ہے یعنی باپ وزیراعظم اور صاحبزادے پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے جارہے ہیں۔
اس طرح سلسلہ آہینہ نے اقتدار پر متمکن ہونے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے اگر آئندہ چل کر میاں نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم یا صدر نہ بنے تو یقینی طور پر ان کی صاحبزادی مریم ان میں سے ایک عہدہ کی امیدوار ضرور ہونگی اسی طرح اگر حمزہ شہباز اس وقت منتخب وزیراعلیٰ ہیں تو وقت آنے پر وہ وزارت عظمیٰ تک پہنچنے کی کوشش ضرور کریں گے۔
شریف خاندان کو 2016 میں مکمل زوال آگیا تھا میاں نواز شریف کو قیدوبند اور نااہلی کی سزا ملی تھی جبکہ شہباز، حمزہ اور مریم کو جیلوں میں وقت گزارنے کا پہلا تجربہ ہوا تھا یہ تمام چھوٹے بڑے اکابرین پنجاب کی جیلوں میں رہے اس لئے جیلوں کا عملہ ان کی بہت آؤبھگت کرتا تھا اسی دوران جب آصف علی زرداری کو پنجاب کی جیل میں رکھا گیا تھا تو انہیں کوئی سہولت حاصل نہیں تھی وہ بہت بیمار تھے اور حکومت انتظار میں تھی کہ زرداری کب رخصت ہونگے ان کی حالت زار پر قوم پرست کالم نگارجاوید چوہدری نے مشورہ دیا تھا کہ زرداری کوسندھ کی کسی جیل میں منتقل کیا جائے اگر انہیں کچھ ہوا تو صوبائی امتیازکا بڑا مسئلہ پیدا ہوجائے گا۔
بہر حال سلسلہ آہینہ کے نئے حکمران ایک بڑے لاؤ لشکر کے ساتھ کل عمرے کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب جارہے ہیں ان کے وفد کی طوالت دیکھ کر اور پی آئی اے کے سب سے مہنگے 777 طیارہ حاصل کرنے کے فیصلہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے کہ وہ اقتدار میں آئے ہیں لیکن انہوں نے نہ تو اپنے ماضی سے کوئی سبق سیکھا اور نہ اپنے پیش رووزیراعظم عمران خان کے حشر سے انہیں کوئی سبق ملا اندازہ لگائیے کہ شریف خاندان کے 14 افراد عمرے کے وفد میں شامل ہیں جن میں شہباز شریف کے بچے پوتے پوتیاں اور ان کے صاحبزادوں کی بیگمات بھی شامل ہیں۔
نہ صرف یہ بلکہ شاہی خاندان کے بچوں کی آیا اور نوکرانیاں بھی وفد میں شامل ہیں شہباز شریف کے چھوٹے صاحبزادے سلمان جو منی لانڈرنگ کے مقدمہ سے پہلے لندن فرار ہوگئے تھے اور ابتک وہاں پر جلاوطنی کی زندگی گزارررہے تھے ان کو بھی وفد میں شامل کیا گیا ہے حتیٰ کہ نواز شریف کے بڑے صاحبزادے حسین نواز جو برطانوی شہریت اختیار کرچکے ہیں انہیں بھی سعودی عرب بلالیا گیا ہے وفدکی پوری تفصیل اگرچہ ہمارے پاس نہیں ہے لیکن یہ بات یقینی ہے کہ وزیراعظم کی ایک یا اس سے زیادہ بیگمات بھی سرکاری خرچہ پر عمرے کی سعادت حاصل کریں گی ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے اپنی تیسری بیگم محترمہ تہمینہ درانی کو خاتون اول قرار دیا ہے جبکہ ان کی پہلی بیگم محترمہ نصرت اور دو دیگر بیگمات کو اس اعزاز سے محروم رکھا گیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ کسی انجانے خوف سے شریف خاندان عجلت میں ہے مثلاً شہباز شریف نے آتے ہی پہلا حکم اپنے خاندان کے افراد کے نام ای سی ایل سے خارج کرنے کا دیا جبکہ اس کے بعد بڑے بھائی جان کو پاسپورٹ جاری کرنے کے فوری احکامات دیئے گئے شکر ہے کہ انہیں سفارتی پاسپورٹ جاری نہیں کیا گیا ورنہ بہت تنقیدہوتی۔
عمرے کیلئے وزیراعظم کے ہمراہ جانے والے وفد میں دو افراد کانام دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی ان میں نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور بی این پی کے قائد سردار اختر مینگل شامل ہیں مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ ہمارے ان دو ہر دلعزیز رہنماؤں نے اس سے پہلے عمرے اور حج کی سعادت حاصل کی ہے کہ نہیں یا یہ سعادت انہیں پہلی دفعہ حاصل ہورہی ہے جہاں تک ڈاکٹر مالک کا تعلق ہے تو وہ تربت کے رہنے والے ہیں وہ روز کوہ مراد کو دیکھتے ہیں چلو اچھا ہواوہ خانہ کعبہ کی زیارت کا شرف حاصل کرلیں سردار اختر جان کیلئے بھی اچھا ہے کہ وہ اس عمر میں خانہ خدا کو منہ دکھاکے آئیں اس سے قطع نظرپاکستانی حکمرانوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ بڑے بڑے وفود لیکر سعودی عرب جاتے ہیں اور وہاں پر سعودی بادشاہوں سے ملک کیلئے مالی امداد اور اپنے لئے کئی قیمتی تحفے حاصل کرتے ہیں۔
1977 کو جب ہم بھٹو کے ہمراہ ریاض گئے تھے تو وفد کے اراکین کو بادشاہ کی جانب سے ایک ایک تحفہ دیا گیا تھا۔
سعودی تحفے کی سب سے زیادہ بے توقیری سابق وزیراعظم عمران کے ہاتھوں ہوئی ہے جب پتہ چلا کہ انہوں نے ایک گھڑی اور دیگر تحائف عالمی مارکیٹ میں فروخت کردیئے اس واقعہ کے بعد سعودی بادشاہوں کوچاہئے کہ وہ پاکستانی حکمرانوں کو تحائف دینے کا سلسلہ بند کردیں یا جانے والے پاکستانی حکمران پیشگی آگاہ کردیں کہ ہمیں تحائف نہ دیئے جائیں چونکہ پاکستانی قوم بھیک منگوں اور خیراتی لوگوں پر مشتمل ہے ان میں غریب سے لیکر امیر تک لالچ کا ایک عنصرپایا جاتا ہے یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک جب سعودی شاہی خاندان کے لوگ تلور کا شکار کھیلنے بلوچستان آتے تھے تو بڑے بڑے لوگ فقیروں کی طرح حاضری لگاکر گاڑیوں اور قیمتی تحائف کے طلبگار ہوتے اسی طرح ابوظہبی کے حکمرانوں کی پنجاب سندھ اور سرحد آمد کے موقع پر نام نہاد ایلیٹ کلاس کے لوگ ان کے کیمپوں کے باہر حرص و ہوس کی نیت سے قطار لگائے کھڑے ہوتے اس رویہ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے معاشی حالات ٹھیک ہونے والے نہیں ہیں جب دنیادیکھتی ہے کہ بھیک اور امداد مانگنے کیلئے حکمران امیر ممالک کا دورہ کرتے ہیں تو بڑے بڑے طیاروں میں نوج ظفر موج ہلہ بول دیتی ہے دنیا ان لوگوں کے بارے میں کیا سمجھتی ہے ان کی فاقہ مستی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے قرض اور امداد لیکر ملک کو چلارہے ہیں لیکن ان کے شاہی طور طریقہ میں کوئی فرق نہیں آرہا ہے غضب خدا کا سابق وزیراعظم عمران خان کے دفتر اور گھر کا فاصلہ10 کلو میٹر تھا وہاں تک کا سفر 15 منٹ کا تھا اس کے باوجود وہ ہیلی کاپٹر استعمال کرتے تھے اور پونے چار سال میں انہوں نے ایک ارب روپے پھونک دیئے دنیا میں شاید ہی ایسے شاہانہ طور اطوار والے حکمران ہوں پاکستانی حکمرانوں کا مقابل مشرقی بعید کے ملک برونائی کے سلطان سے کیا جاسکتا ہے برونائی ایک چھوٹا سا ملک ہے وہاں پر تیل کی وافر مقدار موجود ہے آمدنی بہت زیادہ ہے اس لئے سلطان بھی سونے کے محلات اور کبھی سونے کے جہاز بناکر اپنی دولت کی نمائش اور بے قدری کرتے ہیں اس کے مقابلہ میں پاکستان ایک غریب ملک ہے جہاں بجلی پانی روزگار اور خوارک کی قلت ہے 22 کروڑ لوگوں کی آدھی تعداد غربت کی لیکر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے ریاست کی آمدنی کم اور خرچے بہت زیادہ ہیں ترقی کی دوڑ میں یہ ریاست دنیا کے پسماندہ ترین آخری ممالک کی فہرست میں شامل ہے اس کے باوجود جانے اور آنے والے حکمران سنجیدہ نہیں ہیں شاید ایک بات جو عوام کو پتہ نہیں وہ حکمرانوں کو معلوم ہے کہ ریاست کے پاس کوئی خفیہ خزانہ ہے اس لئے وہ اپنے ملک کے بارے میں زیادہ فکر مند نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں