امریکہ پر امن حالات خراب کرنے کیلئے خطرناک کھیل کھیل رہا ہے، مولانا لونی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی سےنئرنائب امیر مولناعبدالقادرلونی مرکزی ناظم مولنا قاری مہراللہ مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی ضلعی جنرل سیکرٹری مطلع العلوم میں سابق سینٹر حافظ حسین احمد افغانستان کونڈینشن صدر اور پروفیسر اسلاملک یونیورسٹی ڈاکٹر الشیخ المحمود سمرانی مرکزی ممتاز تاجر رہنما فیاض خان سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ مستقل اور پائیدار امن، خطے کی سلامتی اور ترقی وخوشحالی کے لیے مسائل کو افہام وتفہیم سے حل کرنا ناگزیر ہے امریکہ پر امن حالات کو خراب کرنے کے لیے آئے خطرناک کھیل کھیلنے جارہا ہے عالم اسلام افغانستان تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی خودمختاری آزادی اور علاقائی سا لمیت کا احترام کرے اسی سے خطے میں امن کی ضمانت ملے گی افغانستان میں قیام امن پورے خطے کے امن و استحکام کے لئے بآور ثابت ہوگا افغانستان کے تسلیم ہونے سے ہمسایہ ممالک کے درمیان دوستی، استحکام اور روابط کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوگا ترقی اور خوش حالی کے لیے پرامن افغانستان کلیدی اہمیت کا حامل ہے انہوں نے کہا کہ افغانستان بدحالی اور معاشی بحران کا شکار ہے اثاثے بحال ہونے سے موجود بڑے پیمانے پر انسانی بحران اور معاشی بدحالی سے نمٹا جا سکتے ہیں۔افغانستان معاشی استحصالی کا زمہ دار اقوام متحدہ ہے اربوں ڈالر کے مالی اثاثوں تک رسائی کس بنیاد پر روک دی گئی انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بین الاقوامی ڈونر ممالک کی ترقیاتی فنڈز کی ادائیگی روکنے اور افغانستان کے اربوں ڈالر کے مالی اثاثوں کی منجمد ہونے کے باعث افغانستان بدحالی اور معاشی بحران کا شکار ہے تعلیم اور صحت اور انتظامی کی مسائل درپیش ہے معاشی بحران سے تعلیمی ادارے بند ہو چکے بین الاقوامی برادری اور عالمی ادارے افغانستان میں پیدا ہونے والے بحران پر قابو پانے کے لیے معاشی اور انسانی بنیادوں پر مدد کرے اور عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے ترقیاتی رقوم اورمنجمد اثاثوں کو بحال کریں عالمی فنڈز اور افغانستان کی اثاثے بحال کرنے کی بغیر تعلیمی اداروں کی تعمیرات اورتنخوائیں دینا ممکن نہیں ہے انہوں نے کہا کہ عالمی دنیا کی تعصب سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ آخر کس بنیاد پر افغانستان کو تسلیم نہیں کرتے اسلامی ممالک افغانستان کے تسلیم کرنے میں پہل کرے انہوں نے کہا کہ عالم اسلام پر جاری مظالم پر اقوام متحدہ کا دوغلا کردار پوری دنیا پر عیاں ہو چکی ہے افغانستان، ایران، شام، عراق پر عالمی پابندیوں سے انسانی بحرانوں کو جنم دیا ہے سفاکانہ پابندیوں کے باعث انسانی بحران کا المیہ ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ امن اور انسانی تاریخ کے سینے پر ایک رستا ہوا ناسور ہے امریکہ کی منشا پر مسلمان ظلم اور بربریت اورمعاشی استحصالی کا سامنا کررہے ہیں بدامنی اور عدم استحکام سے امریکہ اپنی دھونس اور اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں۔


