ڈیتھ اسکواڈ کے کام سی ٹی ڈی کررہی ہے، ریاستی درندگی سے بلوچ خواتین بھی محفوظ نہیں، بلوچ رہنماء

کوئٹہ (انتخاب نیوز) کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز، نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی، بلوچ یکجہتی کمیٹی، بلوچ وومن فورم کے رہنماؤں نے کہا کہ جیسا کہ آپ سب کو پتہ ہے کہ اس وقت پورا بلوچستان ایک سنگین انسانی بحران سے دوچار ہے، انسانی بحران اور ریاستی درندگی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب ہمارے خواتین بھی ان کے ہاتھوں سے محفوظ نہیں، حالیہ جبری گمشدگی کی لہر میں کئی بلوچ خواتین کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا ہے، ایک خاتون نور جان کو سی ٹی ڈی کی جانب سے دہشت گرد بھی قرار دیا گیا ہے۔ پچھلے دنوں 16 مئی کو نور جان نامی خاتون کو تربت ہوشاب کے علاقے سے رات کے اندھیرے میں سی ٹی ڈی کی جانب سے جبری گمشدگی کا شکار بنا کر ان پر جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی، نور جان تاحال پولیس کے ریمانڈ میں ہے، عدالت نے ان کی ضمانت بھی مسترد کردی ہے۔ اسی طرح حبیبہ پیر جان کو کراچی کی نیول کالونی سے سی ٹی ڈی کے ذریعے جبری طور پر گمشدگی کا شکار بنایا گیا ہے جو تاحال لاپتہ ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں سیکورٹی ادارے جو کام ڈیتھ اسکواڈ یا اپنی ملٹری ونگ سے کروا رہے تھے آج کل وہی کام وہ سی ٹی ڈی کے ذریعے کروا رہے ہیں۔ اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ سی ٹی ڈی کے نام پر ان تمام انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر سیکورٹی ادارے والے ملوث ہیں اور سی ٹی ڈی ان کی بی ٹیم کے طور پر کام کر رہی ہے۔ ان جبری گمشدگیوں کو خاص کر خواتین کی جبری گمشدگیوں کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں اور اس کیخلاف ہم ہر فورم پر آواز اٹھاتے رہیں گے۔ اسی لیے آج ہم اس پریس کانفرنس کے توسط سے اعلان کرتے ہیں کہ 22 مئی کو صبح 12 بجے بلوچستان یونیورسٹی سے لے کر کوئٹہ پریس کلب تک ایک ریلی نکالی جائے گی. ہم بلوچستان کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ریلی میں شریک ہوکر انسان دوستی کا ثبوت دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں