ہمارے معاشرے میں شعور و آگاہی کا فقدان ہے، روشن خورشید بروچہ

کوئٹہ:سابق وفاقی وزیر اور معروف سماجی کارکن روشن خورشید بروچہ نے کہا ہے کہ حیظ اور اس حوالے سے ہمارے معاشرے میں شعور و آگاہی کا فقدان ہے جس کی وجہ سے خواتین اور لڑکیوں کو کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے تمام متعلقہ سرکاری محکموں، مقامی اور بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں اور سول سوسائٹی کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ مل کر نا صرف اس ضمن میں شعور و آگاہی کو عام کیا جائے بلکہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے حفظان صحت(ایم ایچ ایم)کو یقینی بنانے والی خدمات اوور سہولتوں تک رسائی کی صورت حال کو بہت بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گلوبل ایم ایچ ڈے 2022کے حوالے سے منعقدہ خصوصی تقریب کے دوران کیا جس کا اہتما م ایم ایچ ایم ورکنگ گروپ بلوچستان نے بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (بی آر ایس پی)اور جی آئی زی، یونیسف، مرسی کور، قطر چیرٹی سمیت گروپ میں شامل دوسرے اداروں کے ا شتراک سے کیا۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ نور محمد قاضی نے اس موقع پر اپنی گفتگو میں کہا کہ ہمیں اساتذہ، مذہبی رہنماؤں، دینی مدارس کی خواتین طلبہ، لیڈی ہیلتھ وزیٹرز سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو ایم ایچ ایم کے ضمن میں کاوشوں کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس، بلوچستان، جواد احمد ڈوگر نے کہا کہ خواتین کی ایم ایچ ایم سے متعلق ضروریات پولیس کے خواتین سٹاف کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی کہ ملک کی باقی خواتین کو۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے زیر اہتمام اس موضوع پر تربیت کا انعقاد کیا جائے گا۔ ایم ایچ ایم سیکرٹریٹ کوئٹہ کی شریک سربراہ زلیخا بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں ماہواری اور اس سے جڑے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے گزشتہ چند برسوں کے دوران قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے تاہم ان کاوشوں کو مزید تقویت دینے کی ضرورت ہے۔ محکمہ تعلیم کی نمائندگی کرتے ہوئے عرفان احمد اعوان نے لڑکیوں کے لیے با سہولت سکولوں کا قیام یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ بی آر ایس پی کے چیف اگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر شاہنواز نے کہا کہ یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ خواتین کے اس اہم مسئلے پر بات چیت کی جا رہی ہے تاہم اب ہمیں عملی اقدامات کا دائرہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ایم ایچ ایم الائنسز کی تانیہ خان نے اس موقع پر تمام متعلقہ شعبوں کے تحت مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ تقریب کے دوران مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے مذہبی تعلیمات کی روشنی میں خواتین کی حفظان صحت کی اہمیت بیان کی جبکہ جی آئی زی اور یونیسف کے نمائندوں نے اس حوالے سے اپنے اداروں کے کردار پر روشنی ڈالی۔موضوع کے مختلف پہلوں کو تصویری مقابلے اور ٹیبلوز کے ذریعے بھی اجا گر کیا گیا۔ شاہانہ تبسم اور نیلوفر نے قبل ازیں ایم ایچ ایم ڈے کی اہمیت سے شرکا کو آگاہ کرتے ے اس ضمن میں شعور و آگاہی کے لیے کاوشیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں