اسلام آباد کی حکمرانی ملتے ہی موجودہ حکمران عوامی مسائل بھول گئے، عارفہ صدیق
کوئٹہ (انتخاب نیوز) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی سابق ممبر صوبائی اسمبلی عارفہ صدیق ایڈووکیٹ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30روپے ، آٹا اور دیگر اشیا خورونوش کی قیمتیں بڑھانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکمران جب اپوزیشن میں تھے تو سابقہ حکمرانوں پر تیل میں پانچ اور دس روپے بڑھانے پر آسمان سر پر اٹھا لیتے اور مہنگائی مکاﺅ مارچ کے نام پر پورے ملک کے عوام کو اسلام آباد میں اکٹھا کر لیتے لیکن جیسے ہی اسلام آباد کی حکمرانی مل گئی تو تو سب کچھ بھول کر سابقہ حکومت سے دس گناہ تیزی قیمتوں میں اضافہ کرنا شروع کردیا، مہنگائی میں جتنا اضافہ دو مہینے میں کیا گیا سابقہ حکومت ایک سال کی مدت میں بھی نہیں کرسکی تھی لیکن مہنگائی اس طوفان سے محفوظ ھے وہ ایک فیصد سے بھی کم اشرافیہ، اسٹبیلشمنٹ، حکمران طبقہ ہے کہ جن لوگوں کو مہنگی لگژری گاڑی، ہیلی کاپٹرز، جہاز، پیٹرول، بجلی، گیس، رہائش، پلاٹ، ٹیلی فون، انٹرنیٹ، باورچی، ڈرائیور، مالی اور گارڈ مفت میں دیا جاتا ہے۔ ہفتہ کو اپنے بیان میں پشتونخوامیپ کی سابق ممبر صوبائی اسمبلی عارفہ صدیق ایڈوکیٹ نے کہ کہ تمام وزرا، بیوروکریٹ اور تمام گریڈ کے مطابق سرکاری افسران اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ خزانہ خالی ہے سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ خزانہ کس نے خالی کیا ہے، اگر ملک کا خزانہ خالی ہے اور ملک دیوالیہ ہونے جارہا ہے تو پھر ان مراعات یافتہ طبقوں کی تمام سرکاری مراعات کو کیوں نہیں روکا جاتا۔ یاد رکھیں مہنگاہی صرف ان کے لیے ہے جو چھوٹا تنخوہ دار طبقہ ہے یا جو غریب اپنی محنت مزدوری کی کمائی سے خرید کر استعمال کرتے ہیں۔ یہ کونسا انصاف ہے کہ جو قوت خرید رکھتا ہے اسے ہی مفت ملتا ہے، یعنی پیٹرول، بجلی، گیس بلز، لمبی اور بڑی بڑی گاڑیاں، گن مین، چوکیدار، مالی، باورچی اور بہت کچھ ان سروس بلکہ ریٹائرڈ منٹ کے بعد بھی اندرون ملک اور بیرون ملک بھی مراعات جاری رکھی جاتی ہیں جو غریب خرید نہیں سکتا اسی کا خون نچوڑا جارہا ہے۔


